امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے میزائل حملوں کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کی؛ میزائلوں سے نقصان بہت کم ہوا۔

May 5, 2026

سعودی ولی عہد کا اماراتی صدر کو فون؛ ایران کے حملوں کی مذمت اور پاکستان کی مصالحتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان۔

May 5, 2026

پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں خراب موسم اور تکنیکی خرابی کا شکار بھارتی جہاز ایم وی گوتم کے عملے کو ممبئی ایم آر سی سی کی کال پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے بچا لیا۔

May 5, 2026

ممتاز عالمِ دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی چارسدہ میں شہید؛ ریاستِ پاکستان کی حمایت اور آرمی چیف کی تائید پر المرصاد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد قاتلانہ حملہ۔

May 5, 2026

چارسدہ میں اتمانزئی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے؛ واقعے کے خلاف عوام کا شدید احتجاج، تنگی روڈ بلاک۔

May 5, 2026

ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے پراجیکٹ فریڈم کے تحت امریکی جہازوں یا تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اسے دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا۔

May 4, 2026

برطانیہ میں افغان پناہ گزینوں کے زیادتی کے کیسز: اسکریننگ نظام کی کمزوریاں بے نقاب

بولٹن میں افغان شہری بکتاش سلطانی پر دو خواتین سے جنسی زیادتی کا مقدمہ چل رہا ہے، جبکہ اس سے قبل دو افغان پناہ گزین 15 سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی کے جرم میں پکڑے گئے تھے
بولٹن میں افغان شہری بکتاش سلطانی پر دو خواتین سے جنسی زیادتی کا مقدمہ چل رہا ہے، جبکہ اس سے قبل دو افغان پناہ گزین 15 سالہ بچی سے اجتماعی زیادتی کے جرم میں پکڑے گئے تھے

دونوں واقعات اسکریننگ اور نگرانی کے مغربی نظام میں سنگین خلا اور بعض افغان شہریوں کے مجرمانہ رویّے کو بے نقاب کرتے ہیں

December 10, 2025

برطانیہ کے شہر بولٹن میں 28 سالہ افغان شہری بکتاش سلطانی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے دو خواتین سے جنسی زیادتی کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغان شہری بکتاش جسنی زیادتی کے جرم میں پولیس کی تحویل میں ہے۔ دیکھا جائے تو یہ واقعہ نہ صرف مقامی سطح پر تشویش کا باعث بنا ہے بلکہ برطانیہ سمیت متعدد مغربی ممالک میں افغان شہریوں کی رہائش اور بحالی کے پروگراموں میں موجود اسکریننگ اور تفتیش کے نقائص کو بھی واضح کرتا ہے۔

ان واقعات کا تسلسل
بولٹن کا یہ واقعہ اسی نوعیت کے ایک اور کیس کو سامنے لاتا ہے جہاں دو افغان پناہ گزین جہانزیب اور اسرار نیازئی نے لیمنگٹن اسپا میں 15 سالہ لڑکی سے جنسی زیادتی کی تھی۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب دونوں ملزمان برطانوی حکام کی نگرانی میں تھے۔ ان واقعات میں تسلسل اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ پناہ گزینوں کی نگرانی اور ان کی مکمل اسکریننگ کے موجودہ نظام میں خامیاں موجود ہیں، جس بنا پر مقامی آبادیاں شدید تحفظات کا شکار ہے۔

اسکریننگ کا بحران
افغانستان میں 2021 کے بعد کے حالات کے تناظر میں برطانیہ نے ہزاروں افغان شہریوں کو ہنگامی بنیادوں پر ملک میں منتقل کرنے کے لیے متعدد اسکیمیں شروع کیں۔ تاہم یہ عمل متعدد مسائل کا شکار رہا۔ دیکھا جائے تو الجزیرہ اور فرانس 24 کے مطابق 2022 میں برطانوی وزارتِ دفاع کے ایک بڑے ڈیٹا لیک کے نتیجے میں ہزاروں افغان شہریوں کی ذاتی معلومات اور شناخت خطرے میں پڑ گئی۔ اس کے جواب میں برطانوی حکومت نے ایک خفیہ بحالی اسکیم (افغانستان ریسپانس روٹ) کے تحت ہزاروں افراد کو برطانیہ منتقل کیا۔ یہ خفیہ راستہ ڈیٹا لیک کے بعد قائم کیا گیا اور 2025 میں عدالتی پابندی اٹھنے تک عوامی علم سے باہر رہا۔ اسی طرح کینیڈا کی نشریاتی ادارہ سی بی سی کے مطابق حکومت نے اس ڈیٹا لیک پر معذرت کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ہزاروں افراد کو ہنگامی بنیادوں پر لایا گیا، جس بنا پر اسکریننگ پر سوالات اٹھنے لگے۔

قانونی تنقید

یکم جولائی 2025 کو افغان بحالی اسکیموں کو اچانک بند کرنے کے فیصلے پر انسانی حقوق اور مہاجرین کی حمایت کرنے والی تنظیموں نے سخت تنقید کی۔ تنظیم “ریفیوجی لیگل سپورٹ” کے مطابق یہ بندش بغیر کسی مشاورت کے کی گئی، جس سے افغان شہریوں کے لیے محفوظ اور قانونی راستوں تک رسائی ختم ہو گئی۔

پروگراموں کے ڈیزائن میں بنیادی نقائص
سیف پاسج نامی تنظیم کے مطابق موجودہ افغان اسکیموں میں کئی ناکامیاں رہی ہیں، جن میں غیر متوازن فیصلے، سخت شرائط، اور درخواستوں پر تاخیر شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل خاندانوں کی حفاظت اور برطانوی معاشرے میں ان کے مؤثر انضمام پر براہ راست اثر انداز ہوئے ہیں۔ اسی طرح مائیگریشن آبزرویٹری آکسفورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 30 جون 2025 تک تین افغان اسکیموں کے تحت تقریباً 35,700 افراد کو تحفظ دیا گیا تھا۔

پاکستان کا مؤقف
اس موقع پر پاکستان کا کہنا ہے کہ بولٹن اور لیمنگٹن اسپا کے واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جب بڑے پیمانے پر اور ہنگامی بنیادوں پر یا خفیہ راستوں سے لوگوں کو لایا جاتا ہے تو تفصیلی اسکریننگ، جانچ پڑتال اور نگرانی کا عمل شدید متاثر ہوتی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس کی نشاندہی پاکستان مسلسل عالمی فورمز پر کرتا رہا ہے۔ پاکستان کا مستقل مؤقف یہ رہا ہے کہ مہاجرین کے نظم و نسق کا ہر پہلو بالخصوص کسی بھی میں داخلے کے وقت سخت اور شفاف سکیورٹی اسکریننگ، میزبان ملک کی عوامی حفاظت اور بین الاقوامی اعتماد کے لیے از حد ضروری ہے۔ یہ اسکریننگ دہشت گردی یا جرائم سے منسلک عناصر کی کسی ملک تک رسائی کو ناممکن بنا دیتی ہے۔

دیکھیں: صدر پرابوو کا تاریخی دورہ: پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اہم معاہدے

متعلقہ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے میزائل حملوں کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کی؛ میزائلوں سے نقصان بہت کم ہوا۔

May 5, 2026

سعودی ولی عہد کا اماراتی صدر کو فون؛ ایران کے حملوں کی مذمت اور پاکستان کی مصالحتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان۔

May 5, 2026

پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں خراب موسم اور تکنیکی خرابی کا شکار بھارتی جہاز ایم وی گوتم کے عملے کو ممبئی ایم آر سی سی کی کال پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے بچا لیا۔

May 5, 2026

ممتاز عالمِ دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی چارسدہ میں شہید؛ ریاستِ پاکستان کی حمایت اور آرمی چیف کی تائید پر المرصاد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد قاتلانہ حملہ۔

May 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *