پاکستان نے حوثی ملیشیا کی بحیرہ احمر اور سعودی عرب کو دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستانی جہازوں پر حملے کی صورت میں دفاع کا حق محفوظ رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

July 22, 2026

دہلی میں تعلیمی بے ضابطگیوں اور بے روزگاری پر مودی حکومت کے خلاف طلبہ کے احتجاج پر پولیس تشدد کے بعد نصیر الدین شاہ اور پرکاش راج سمیت بالی ووڈ کی معروف شخصیات میدان میں آ گئی ہیں۔

July 22, 2026

ایف آئی اے اور سکیورٹی اداروں نے افغان شہریوں کو جعلی شناختی دستاویزات فراہم کرنے والے 2 نادرا افسران سمیت 4 افراد کو گرفتار کر کے دہشت گردی سے روابط کا انکشاف کیا ہے۔

July 22, 2026

پاکستان، قطر اور مصر نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع حل کرنے کے لیے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کا واشنگٹن میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔

July 22, 2026

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران سنجیدہ ہو تو امریکا مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم عدم تعاون کی صورت میں دیگر آپشنز بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

July 22, 2026

بنوں میں فتنہ الخوارج کا سہولت کار خود ساختہ مولوی ظفریاب گرفتار ہو گیا ہے، جس نے خارجی کمانڈرز کو بھتہ خوری کے لیے غیر شرعی فتوے دینے کا اعتراف کر لیا ہے۔

July 22, 2026

طالبان میں پالیسی تضاد بے نقاب: جی ڈی آئی کی سخت وارننگ، علما کی علاقائی عدم مداخلت کی ہدایت

تاہم، یہ سخت لہجہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل کابل میں طالبان کے اعلیٰ مذہبی علما نے امیرِ طالبان ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری سے، ایک مذہبی فتویٰ جاری کیا تھا جس میں واضح طور پر افغانوں کو ہدایت کی گئی کہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ اس فتویٰ میں تحمل، ذمہ داری اور علاقائی امن پر زور دیا گیا تھا۔
طالبان میں پالیسی تضاد بے نقاب: جی ڈی آئی کی سخت وارننگ، علما کی علاقائی عدم مداخلت کی ہدایت

مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر طالبان قیادت کے اندر یہ تضاد برقرار رہا تو یہ نہ صرف داخلی استحکام بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

December 14, 2025

طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جہاں ایک جانب سکیورٹی اور انٹیلی جنس حلقے طاقت اور جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف اعلیٰ مذہبی قیادت تحمل، ضبط اور علاقائی عدم مداخلت پر زور دے رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ متضاد پیغامات طالبان کے اقتدار کے اندر ایک واضح تقسیم کی نشاندہی کرتے ہیں، جسے عموماً قندھار میں موجود مذہبی قیادت اور کابل میں سرگرم طاقتور سکیورٹی و انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے درمیان خلیج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اس تقسیم کی تازہ مثال طالبان کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے ڈپٹی ڈائریکٹر تاجمیر جواد کا بیان ہے، جنہوں نے ایک مدرسے کی تقریبِ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر افغانستان پر کوئی “مسلط شدہ جنگ” تھوپی گئی تو اس کا جواب فیصلہ کن طاقت سے دیا جائے گا۔ جواد کے اس بیان کو طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے حالیہ مؤقف سے ہم آہنگ سمجھا جا رہا ہے، جنہوں نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سرحد پار سکیورٹی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے طالبان کی مکمل خودمختاری پر زور دیا تھا۔

تاہم، یہ سخت لہجہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل کابل میں طالبان کے اعلیٰ مذہبی علما نے امیرِ طالبان ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری سے، ایک مذہبی فتویٰ جاری کیا تھا جس میں واضح طور پر افغانوں کو ہدایت کی گئی کہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ اس فتویٰ میں تحمل، ذمہ داری اور علاقائی امن پر زور دیا گیا تھا۔

سکیورٹی قیادت اور مذہبی اتھارٹی کے بیانیے میں یہ واضح تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان کے اندر پالیسی سازی میں ہم آہنگی کا فقدان بڑھ رہا ہے۔ جہاں مذہبی قیادت علاقائی عدم مداخلت اور ضبط نفس کی بات کر رہی ہے، وہیں سکیورٹی اور انٹیلی جنس حلقے جہادی دور کی زبان استعمال کرتے ہوئے طاقت کے استعمال کا عندیہ دے رہے ہیں، جو اندرونی اختلافات کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اختلاف محض الفاظ تک محدود نہیں بلکہ ایک گہرے ساختی بحران کی علامت ہے، جو طالبان کی کمانڈ اور کنٹرول کی یکجہتی پر سوالات اٹھاتا ہے۔ حالیہ بیانات کا تسلسل، خصوصاً حقانی نیٹ ورک سے منسلک سکیورٹی دھڑے کی جانب سے بیرونی خطرات کو اجاگر کرنا اور اب جی ڈٰی آئی کی جانب سے کھلی طاقت کی دھمکی، اس کوشش کی عکاسی کرتا ہے کہ طاقت پر مبنی بیانیے کو غالب کیا جائے۔

افغان تاریخ کے تناظر میں، مذہبی قیادت اور مسلح انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے درمیان عوامی سطح پر اختلافات ماضی میں شدید اندرونی ٹکراؤ کا پیش خیمہ رہے ہیں، جیسا کہ 1990 کی دہائی میں مجاہدین کی باہمی تقسیم کی مثال موجود ہے۔ مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر طالبان قیادت کے اندر یہ تضاد برقرار رہا تو یہ نہ صرف داخلی استحکام بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

دیکھیں: افغانستان بحران کے دہانے پر، خواتین کی تعلیم اور انسانی حقوق پر عالمی تشویش میں اضافہ

متعلقہ مضامین

پاکستان نے حوثی ملیشیا کی بحیرہ احمر اور سعودی عرب کو دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستانی جہازوں پر حملے کی صورت میں دفاع کا حق محفوظ رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

July 22, 2026

دہلی میں تعلیمی بے ضابطگیوں اور بے روزگاری پر مودی حکومت کے خلاف طلبہ کے احتجاج پر پولیس تشدد کے بعد نصیر الدین شاہ اور پرکاش راج سمیت بالی ووڈ کی معروف شخصیات میدان میں آ گئی ہیں۔

July 22, 2026

ایف آئی اے اور سکیورٹی اداروں نے افغان شہریوں کو جعلی شناختی دستاویزات فراہم کرنے والے 2 نادرا افسران سمیت 4 افراد کو گرفتار کر کے دہشت گردی سے روابط کا انکشاف کیا ہے۔

July 22, 2026

پاکستان، قطر اور مصر نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع حل کرنے کے لیے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کر دی ہے، جس کا واشنگٹن میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔

July 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *