ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں اعلیٰ قیادت نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کا مقصد ثالثی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

June 23, 2026

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے لاپتہ قرار دیا گیا یوسف نامی شخص بھارتی پراکسی فتنۃ الہندوستان کا سرگرم دہشت گرد نکلا، جو سکیورٹی فورسز پر حملے کے دوران مارا گیا ہے۔

June 23, 2026

پاکستان نے افغان حکومت کے زیرِ اثر ابلاغی ادارے المرصاد کے خیبر اور پشاور میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں سے متعلق دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

June 23, 2026

پنجگور کے علاقے جیرک میں سکیورٹی فورسز نے کاروائی کرتے ہوئے بھاری اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کر کے دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام بنا دی۔

June 23, 2026

افغانستان فریڈم فرنٹ نے کابل میں طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف کے اہلکاروں کی گاڑی پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

June 23, 2026

افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان نے ترک النسل اقوام کی حمایت اور ہرات مظاہروں سے اظہارِ یکجہتی کے الزام میں ازبک ثقافتی کارکن مسعود تیمور کو گرفتار کر لیا۔

June 23, 2026

ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی القاعدہ کے مترادف ہے، امریکی جریدہ

امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی اور طالبان کے مدارس میں نوجوان نسل کی جاری تربیت خطے اور عالمی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی اور طالبان کے مدارس نوجوان نسل کی تربیت سے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں

جریدے کے مطابق امارتِ اسلامیہ کے نظریات نہ تو افغان روایات کی عکاسی کرتے ہیں اور نہ ہی دینِ اسلام کے اصولوں سے ہم آہنگ ہیں

December 17, 2025

امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی کو القاعدہ اور داعش جیسی عالمی دہشت گرد تنظیموں کے مترادف قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طالبان حکومت عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں سے روابط ہیں جن میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور القاعدہ جیسی عالمی دہشت گرد تنظیمیں سرفہرست ہیں۔ امریکی جریدے نے اس بات کو واضح کیا کہ افغانستان میں ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو عالمی جہاد کو ایک مذہبی فریضہ سمجھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے زیرِ انتظام مدارس میں 2021 کے بعد تعلیمی نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت اور فروغ کے لیے یکسر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب افغانستان میں تعلیم کا محور نظریاتی ہم آہنگی اور شدت پسندی کو فروغ دینا بن گیا ہے۔

جریدے کے مطابق افغان طالبان کے نظریات نہ تو افغان روایات کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی دینِ اسلام کے بلکہ یہ ایک ظالمانہ وآمرانہ نظریہ ہے جسکو نوجوان نسل میں پھیلایا جارہا ہے۔ طالبان قیادت نے واضح کیا ہے کہ لڑکیوں کے اسکول صرف اسی صورت کھولیں گے جب ان کا نصاب مکمل طور پر نظریاتی پیمانے پر پورا اترے۔

تحقیقات کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ ایک عالمی جہادی کے حامیین میں سے ہیں۔ ان کی سوچ مدارس کے ذریعے عوام کی ذہنی تشکیلِ نو کرکے اس نظریے کو عالمی سطح پر پھیلانا ہے۔

دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق چار کروڑ آبادی پر مشتمل افغانستان میں 23 ہزار سے زائد مدارس موجود ہیں، جو تعلیم کے نام پر نوجوان نسل کی منظّم طور پر نظریاتی تربیت وعسکری تربیت کر رہے ہیں۔ مذکورہ صورتِ حال مستقبل میں نہ صرف جنوبی و وسطی ایشیا میں عدمِ استحکام بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا نظریاتی تربیت کا یہ منظم عمل افغانستان، ہمسایہ ممالک اور پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

دیکھیں: افغانستان کے مزاحمتی گروہ کی کارروائی میں دو طالبان اہلکار ہلاک

متعلقہ مضامین

ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں اعلیٰ قیادت نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کا مقصد ثالثی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

June 23, 2026

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے لاپتہ قرار دیا گیا یوسف نامی شخص بھارتی پراکسی فتنۃ الہندوستان کا سرگرم دہشت گرد نکلا، جو سکیورٹی فورسز پر حملے کے دوران مارا گیا ہے۔

June 23, 2026

پاکستان نے افغان حکومت کے زیرِ اثر ابلاغی ادارے المرصاد کے خیبر اور پشاور میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں سے متعلق دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

June 23, 2026

پنجگور کے علاقے جیرک میں سکیورٹی فورسز نے کاروائی کرتے ہوئے بھاری اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کر کے دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام بنا دی۔

June 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *