سفارتخانے کے مطابق جاری تجارتی مکالمہ پاکستان کے مارکیٹ سائز، علاقائی کنیکٹوٹی اور جغرافیائی اقتصادی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ شراکت داری میں کسی تعطل کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ سفارتی اور کاروباری سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔

February 12, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بعد ازاں طالبان مخالف مسلح تنظیم “اے ایف ایف” نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

February 12, 2026

اماراتی سفیر حماد عبید الزعابی کے مطابق پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سیپا معاہدہ تجارت میں اضافے اور سرمایہ کاری کی رکاوٹیں دور کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا

February 12, 2026

یاد رہے کہ ملک میں احتساب اور سیاسی شفافیت کا معاملہ ہمیشہ سے حساس موضوع رہا ہے، اور مختلف ادوار میں سیاسی رہنماؤں پر مالی بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ادارہ جاتی مضبوطی اور غیر جانبدار احتساب ہی اس بحث کو منطقی انجام تک پہنچا سکتا ہے۔

February 12, 2026

سلامتی کونسل کی رپورٹ میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کو حاصل “ترجیحی سلوک” پر تشویش کا اظہار؛ پاکستان کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ

February 12, 2026

کالعدم ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) کے سرغنہ نور ولی محسود کی علمی حیثیت بے نقاب؛ دینی اداروں نے اسے ‘جعلی مفتی’ قرار دیتے ہوئے اس کے نظریات کو مسترد کر دیا

February 12, 2026

ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی القاعدہ کے مترادف ہے، امریکی جریدہ

امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی اور طالبان کے مدارس میں نوجوان نسل کی جاری تربیت خطے اور عالمی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی اور طالبان کے مدارس نوجوان نسل کی تربیت سے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں

جریدے کے مطابق امارتِ اسلامیہ کے نظریات نہ تو افغان روایات کی عکاسی کرتے ہیں اور نہ ہی دینِ اسلام کے اصولوں سے ہم آہنگ ہیں

December 17, 2025

امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی کو القاعدہ اور داعش جیسی عالمی دہشت گرد تنظیموں کے مترادف قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طالبان حکومت عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کے 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں سے روابط ہیں جن میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور القاعدہ جیسی عالمی دہشت گرد تنظیمیں سرفہرست ہیں۔ امریکی جریدے نے اس بات کو واضح کیا کہ افغانستان میں ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو عالمی جہاد کو ایک مذہبی فریضہ سمجھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے زیرِ انتظام مدارس میں 2021 کے بعد تعلیمی نصاب کو عالمی جہادی نظریے کی تربیت اور فروغ کے لیے یکسر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب افغانستان میں تعلیم کا محور نظریاتی ہم آہنگی اور شدت پسندی کو فروغ دینا بن گیا ہے۔

جریدے کے مطابق افغان طالبان کے نظریات نہ تو افغان روایات کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی دینِ اسلام کے بلکہ یہ ایک ظالمانہ وآمرانہ نظریہ ہے جسکو نوجوان نسل میں پھیلایا جارہا ہے۔ طالبان قیادت نے واضح کیا ہے کہ لڑکیوں کے اسکول صرف اسی صورت کھولیں گے جب ان کا نصاب مکمل طور پر نظریاتی پیمانے پر پورا اترے۔

تحقیقات کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ ایک عالمی جہادی کے حامیین میں سے ہیں۔ ان کی سوچ مدارس کے ذریعے عوام کی ذہنی تشکیلِ نو کرکے اس نظریے کو عالمی سطح پر پھیلانا ہے۔

دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق چار کروڑ آبادی پر مشتمل افغانستان میں 23 ہزار سے زائد مدارس موجود ہیں، جو تعلیم کے نام پر نوجوان نسل کی منظّم طور پر نظریاتی تربیت وعسکری تربیت کر رہے ہیں۔ مذکورہ صورتِ حال مستقبل میں نہ صرف جنوبی و وسطی ایشیا میں عدمِ استحکام بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا نظریاتی تربیت کا یہ منظم عمل افغانستان، ہمسایہ ممالک اور پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

دیکھیں: افغانستان کے مزاحمتی گروہ کی کارروائی میں دو طالبان اہلکار ہلاک

متعلقہ مضامین

سفارتخانے کے مطابق جاری تجارتی مکالمہ پاکستان کے مارکیٹ سائز، علاقائی کنیکٹوٹی اور جغرافیائی اقتصادی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ شراکت داری میں کسی تعطل کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے کیونکہ سفارتی اور کاروباری سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔

February 12, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے اور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بعد ازاں طالبان مخالف مسلح تنظیم “اے ایف ایف” نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

February 12, 2026

اماراتی سفیر حماد عبید الزعابی کے مطابق پاکستان اور یو اے ای کے درمیان سیپا معاہدہ تجارت میں اضافے اور سرمایہ کاری کی رکاوٹیں دور کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا

February 12, 2026

یاد رہے کہ ملک میں احتساب اور سیاسی شفافیت کا معاملہ ہمیشہ سے حساس موضوع رہا ہے، اور مختلف ادوار میں سیاسی رہنماؤں پر مالی بدعنوانی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ادارہ جاتی مضبوطی اور غیر جانبدار احتساب ہی اس بحث کو منطقی انجام تک پہنچا سکتا ہے۔

February 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *