ہم اکثر “عالمی معیار” کی دہائی دیتے ہیں، مگر کیا عالمی معیار کا مطلب اپنی نسلوں کو نفسیاتی مریض بنانا ہے؟ حقیقی عالمی معیار وہ ہے جہاں ہم جدید تعلیم کو اپنی “مقامی اقدار” کے ریشم میں پرو دیں۔

March 8, 2026

پاکستانی سکیورٹی اور سفارتی حلقے طالبان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ سرحد پار دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف صرف پاکستان کا دعویٰ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس، امریکی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان سگار اور دیگر عالمی انٹیلی جنس جائزوں میں بھی بارہا یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت اور جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں۔

March 8, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترک جنرل سلجوق بائرکتار اوغلو کا ٹیلیفونک رابطہ؛ دونوں عسکری رہنماؤں نے علاقائی سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا

March 8, 2026

پاکستان نے افغانستان میں ہلاکتوں سے متعلق یوناما کی رپورٹ کو مبالغہ آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا؛ حکام کا کہنا ہے کہ طالبان دہشت گردوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں

March 7, 2026

افغان ترجمان حمداللہ فطرت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات کو مبصرین “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

March 7, 2026

سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل کا پاکستان مخالف پراپیگنڈا مسترد؛ اے پی ایس سانحے کے سہولت کار کا پاکستانی ایٹمی پروگرام پر بیان اسرائیلی ایجنڈے کا حصہ قرار

March 7, 2026

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ نے ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی کے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی، ترجمان دفترِ خارجہ

سلامتی کونسل کی رپورٹ میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کو حاصل “ترجیحی سلوک” پر تشویش کا اظہار؛ پاکستان کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ
سلامتی کونسل کی رپورٹ میں افغانستان میں ٹی ٹی پی کو حاصل "ترجیحی سلوک" پر تشویش کا اظہار؛ پاکستان کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرا بی کے مطابق اقوامِ متحدہ کی رپورٹ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی اور داعش کی موجودگی کے پاکستانی موقف کی مکمل تائید کر دی ہے

February 12, 2026

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرا بی نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ نے افغانستان میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو عالمی سطح پر درست ثابت کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ نہ صرف ٹی ٹی پی بلکہ افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی بھی تصدیق کرتی ہے، جو علاقائی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس رپورٹ کو سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے باقاعدہ طور پر اٹھایا جائے گا۔

ٹی ٹی پی کو حاصل ترجیحی سلوک
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ میں ایک تشویشناک انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں افغانستان سے کام کرنے والے دیگر دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں کالعدم ٹی ٹی پی کو غیر معمولی اور “ترجیحی سلوک” حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان سرزمین پر ان دہشت گردوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور انہیں حاصل سہولیات سے رکن ممالک میں یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یہ گروہ اب صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطے سے باہر بھی ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ بن سکتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ صورتحال عالمی برادری کے لیے چشم کشا ہونی چاہیے۔

عالمی برادری سے مطالبہ
طاہر اندرا بی نے بریفنگ کے دوران عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل افغان عبوری حکومت کو اپنی سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے یاد دلاتا رہا ہے، لیکن یو این رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان اس معاملے پر سفارتی سطح پر دباؤ بڑھائے گا تاکہ افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے ان خطرات کا سدِباب کیا جا سکے اور سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو۔

خطے کی سلامتی اور پاکستان کا عزم
ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی مضبوطی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کی حفاظت اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کی اس مستند دستاویز کے بعد اب کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی، لہٰذا عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کے لیے افغان انتظامیہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

دیکھیے: افغانستان: عالمی دہشت گردی کا مرکز اور بین الاقوامی اداروں کی تشویشناک رپورٹس

متعلقہ مضامین

ہم اکثر “عالمی معیار” کی دہائی دیتے ہیں، مگر کیا عالمی معیار کا مطلب اپنی نسلوں کو نفسیاتی مریض بنانا ہے؟ حقیقی عالمی معیار وہ ہے جہاں ہم جدید تعلیم کو اپنی “مقامی اقدار” کے ریشم میں پرو دیں۔

March 8, 2026

پاکستانی سکیورٹی اور سفارتی حلقے طالبان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ سرحد پار دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف صرف پاکستان کا دعویٰ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس، امریکی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان سگار اور دیگر عالمی انٹیلی جنس جائزوں میں بھی بارہا یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت اور جنگجو افغان سرزمین پر موجود ہیں۔

March 8, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترک جنرل سلجوق بائرکتار اوغلو کا ٹیلیفونک رابطہ؛ دونوں عسکری رہنماؤں نے علاقائی سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا

March 8, 2026

پاکستان نے افغانستان میں ہلاکتوں سے متعلق یوناما کی رپورٹ کو مبالغہ آمیز قرار دے کر مسترد کر دیا؛ حکام کا کہنا ہے کہ طالبان دہشت گردوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں

March 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *