شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

October 2, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اور اب اس کے نفاذ کے تکنیکی معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے۔

October 2, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا، دونوں فریق کل دوبارہ مذاکرات کریں گے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی اہم معاملہ بن گئی۔

October 2, 2026

خیبر۔کنڑ دریا پر میگا ڈیم منصوبے: افغانستان کی یکطرفہ تعمیرات اور پاکستان کے لیے بڑھتے آبی خدشات

افغان قائم مقام وزیرِ توانائی، عبداللطیف منصور کے مطابق، گزشتہ برس کے دوران کمال خان ڈیم (نیمروز)، شاہ و عروس ڈیم (کابل)، پشدان ڈیم (ہرات) اور توری ڈیم (زابل) جیسے منصوبے مکمل یا فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں 59 بڑے اور درمیانے درجے کے ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔
خیبر۔کنڑ دریا پر میگا ڈیم منصوبے: افغانستان کی یکطرفہ تعمیرات اور پاکستان کے لیے بڑھتے آبی خدشات

پاکستان کا مؤقف برقرار ہے کہ ترقی سب کا حق ہے، مگر مشترکہ دریاؤں کے لیے مشترکہ ذمہ داری اور باہمی فریم ورک ناگزیر ہے۔

December 17, 2025

افغانستان میں دریائے کنڑ (کنار) پر بڑے پیمانے پر ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں نے ایک بار پھر افغانستان–پاکستان آبی تعلقات کو حساس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ افغانستان کی وزارتِ توانائی و پانی نے واضح کیا ہے کہ کنڑ دریا پر مجوزہ ایک بڑے پن بجلی منصوبے سے 1500 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی جبکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت مجموعی طور پر 3651 میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

افغان قائم مقام وزیرِ توانائی، عبداللطیف منصور کے مطابق، گزشتہ برس کے دوران کمال خان ڈیم (نیمروز)، شاہ و عروس ڈیم (کابل)، پشدان ڈیم (ہرات) اور توری ڈیم (زابل) جیسے منصوبے مکمل یا فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں 59 بڑے اور درمیانے درجے کے ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ طویل المدتی وژن کے مطابق ملک بھر میں 184 ڈیمز تعمیر کیے جائیں گے، جن کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 13.5 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

طالبان حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان کو ایران کے ساتھ ہلمند معاہدے کے سوا کسی ہمسایہ ملک کے ساتھ باضابطہ آبی معاہدہ حاصل نہیں، اور ڈیموں کی تعمیر ایک خودمختار ریاست کا حق ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے پاکستان سمیت کسی بھی زیریں ملک کو پانی کی قلت کا سامنا نہیں ہوگا۔

تاہم ماہرین کے مطابق کنڑ–کابل دریا ایک سرحد پار آبی نظام ہے جو براہِ راست پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں داخل ہوتا ہے، جہاں لاکھوں افراد زراعت، پینے کے پانی اور پن بجلی کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان کی تشویش افغان ترقی کے حق پر نہیں، بلکہ شفافیت، تکنیکی معلومات کے تبادلے اور مشترکہ آبی انتظام کے فقدان پر مرکوز ہے، جو بین الاقوامی آبی قوانین کے تحت زیریں ممالک کے حقوق کے تحفظ کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔

اکتوبر میں سرحدی کشیدگی کے بعد پاکستان–افغانستان کے درمیان سفارتی روابط محدود ہو چکے ہیں، جس کے باعث مشترکہ آبی مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یکطرفہ طور پر بڑے ڈیموں کی تعمیر پانی کو ترقی کے بجائے ایک اسٹریٹجک دباؤ کے آلے میں بدل سکتی ہے، جو پہلے سے نازک علاقائی ماحول میں مزید تناؤ پیدا کرے گی۔

پاکستان کا مؤقف برقرار ہے کہ ترقی سب کا حق ہے، مگر مشترکہ دریاؤں کے لیے مشترکہ ذمہ داری اور باہمی فریم ورک ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق پائیدار استحکام کا راستہ تیز رفتار تعمیرات نہیں بلکہ بات چیت، اعتماد سازی اور مشترکہ دریا جاتی نظم و نسق سے ہو کر گزرتا ہے۔

دیکھیں: پاکستان کے اعلیٰ دفاعی ڈھانچے پر ازسرِنو غور

متعلقہ مضامین

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

October 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *