خیبر پختونخوا میں گندم کے بیج کی سٹوریج کے دوران خراب ہونے کے باوجود وہ بیج کسانوں کو فراہم کیے جانے کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے پر قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ انکوائری کمیٹی کی سفارش پر محکمہ زراعت کے گریڈ 17 سے گریڈ 19 کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ معطل ہونے والوں میں ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز شامل ہیں، جبکہ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت ڈی آئی خان بھی معطل ہونے والوں میں شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خراب بیج کی فراہمی سے متعلق شکایات ٹانک، ہنگو، مردان، مالاکنڈ اور سوات کے اضلاع سے موصول ہوئیں تھیں، جس کے بعد باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ انکوائری افسر کے مطابق صوبے بھر میں گندم کے بیج کے مجموعی طور پر 36 ہزار بیگز سپلائی کیے گئے، جن میں سے اب تک 1200 بیگز کی جانچ پڑتال مکمل کی جا چکی ہے۔ جانچ کے دوران 200 بیگز میں خراب اور ناقابلِ استعمال بیج پائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بیج کی سٹوریج اور کوالٹی کنٹرول کے مراحل میں سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، جس کے باعث کسانوں کو نقصان پہنچا۔ محکمہ زراعت کے حکام کے مطابق انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید تادیبی کارروائی اور اصلاحی اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق حکومتِ خیبر پختونخوا کسانوں کے نقصانات کے ازالے اور بیج کی فراہمی کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی ترتیب دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔
دیکھیں: معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ مثبت پالیسیوں کے ذریعے مضبوط ہو رہی ہے: وفاقی وزیرِ خزانہ