"> جبل پور واقعہ کے بعد بھارت میں اقلیتوں کے تہواروں کو خطرہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

جبل پور واقعہ کے بعد بھارت میں اقلیتوں کے تہواروں کو خطرہ

مدھیہ پردیش کے جبلپور میں کرسمس تقریب کے دوران بی جے پی نائب صدر آنجو بھارگو نے تقریب روکی اور ایک نابینا خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی۔
مدھیہ پردیش کے جبلپور میں کرسمس تقریب کے دوران بی جے پی نائب صدر آنجو بھارگو نے تقریب روکی اور ایک نابینا خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی۔

پولیس موقع پر موجود تھی لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اور چار دن بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی

December 24, 2025

کرسمس کا تہوار بھارت کے مختلف حصوں میں خوشی اور امن کا پیغام لے کر آتا ہے لیکن اس سال کئی علاقوں میں عیسائی برادری کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے واقعات نے تہوار کی خوشیوں پر دھبہ ڈال دیا ہے۔ گذشتہ دنوں میں ہونے والے متعدد واقعات نے ملک کے سیکولر تشخص اور اقلیتوں کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

نابینا خاتون کے ساتھ بدتمیزی

بیس دسمبر کو مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں کرسمس تقریب کے دوران جہاں غریب بچوں کے لیے کھانا تقسیم کیا جا رہا تھا، بی جے پی کی ریاستی نائب صدر آنجو بھارگو نے تقریب کو روکنے کی کوشش کی۔ گواہوں کے مطابق اس دوران ایک نابینا خاتون کے ساتھ بُرا سکوک کرتے ہوئے انہیں گالیاں دی گئی۔

پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے لیکن انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ واقعہ کے چار دن بعد بھی کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، جو قانونی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
ٹوئٹر پر ایک رائٹس ایکٹوسٹ نے کہا کہ جبلپور میں نابینا عورت کے ساتھ بدتمیزی صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ رویہ ہے جو عدم سزا پا کر حوصلہ پکڑ رہا ہے۔

دہلی، اوڈیشا اور ہریدوار میں دیگر واقعات

جبل پور کا واقعہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل دہلی میں کرسمس منانے والوں کو سانٹا کلاوز کے کپڑوں میں روکنے اور ہراساں کرنے کی کوشش۔ اوڈیشا میں کرسمس سجاوٹ بیچنے والے غریب فروشوں کو دھمکیاں دے کر کاروبار بند کروایا گیا۔ ہریدوار میں ‘ثقافتی حساسیت’ کے نام پر بچوں کی کرسمس پارٹی منسوخ۔

ایک سال میں رونما ہونے والے واقعات

کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا کے مطابق 2025 کے نو مہینوں میں ملک بھر میں عیسائیوں کے خلاف 706 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ واقعات کوئی الگ تھلگ یا عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم رجحان ہیں۔ آرچ بشپ جارج آنتھونی نے کہا کہ حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کی اپیل کرتے ہیں تاکہ لوگ اپنے عقیدے کے مطابق عبادت اور تہوار منانے میں آزاد اور محفوظ رہ سکیں۔

خاموشی پر سوالیہ نشان

اپوزیشن جماعتیں حکومت کی مجرمانہ خاموشی پر برہم ہیں۔ کانگریس نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم مودی کا نعرہ ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ صرف کاغذ پر رہ گیا؟ جب ایک نابینا ماں بے آبرو ہوتی ہے تو آواز کیوں نہیں اٹھتی؟ دیگر سیکولر جماعتوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اقلیتوں کے تہواروں کو مکمل تحفظ اور تعاون فراہم کیا جائے۔

تاریخی رجحان

ماہرین سماجیات کے مطابق بھارت میں اقلیتی تہواروں سے قبل ایسے تنازعات پیدا ہونے کا ایک پرانی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد سیاسی مفاد کے لیے مذہبی جذبات بھڑکانا ہے۔ یہ واقعات شہریوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور ملک کی امن و آشتی کی اجتماعی روح کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

دیکھیں: بھارتی فوج میں کرپشن کا بحران: سینئر افسر اہلیہ سمیت گرفتار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *