برطانیہ نے 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی تھی۔ جس کے تحت 18 دسمبر 2024 کو وزیرِ دفاع کی جانب سے افغان دوبارہ آباد کاری پروگرام (افغان ری سیٹلمنٹ پروگرام) کا آغاز کیا گیا تاکہ مختلف اسکیموں کو یکجا کر کے دوبارہ آباد کاری کے عمل کو بہتر انداز میں منظّم اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 34,000 سے زائد افغان برطانیہ منتقل ہو چکے ہیں۔
اے آر پی کے قیام کا مقصد ان افغان شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا جو برطانیہ کے ساتھ کام کر چکے تھے یا افغان عوام کی خدمت کر چکے تھے۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ اقدام سے نہ صرف ان افراد کو تحفظ ملا بلکہ برطانیہ نے اپنے وعدوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو بھی بہتر انداز میں ادا کیا۔
اے آر پی کی مختلف اسکیمیں
اے آر پی نے تین اہم اسکیموں کو یکجا کیا تاکہ افغان پناہ گزینوں کی منتقلی منظم اور شفاف ہوسکے جن میں افغان دوبارہ آباد کاری اور امدادی پالیسی شامل تھی۔
یہ اسکیم ان افغان شہریوں کے لیے تھی جو برطانیہ کی معاونت جیسی خدمات سرانجام دے چکے ہوں۔ اسکیم کے تحت موجودہ تمام درخواستوں کیا جنچ پڑتال کی جائے گی اور اہل افراد سمیت ان کے اہل خانہ (شریک حیات اور 18 سال سے کم عمر بچے) بھی زیر غور آئیں گے۔ اطلاعات کے مطابق مزید اہل خانہ کی منتقلی کے لیے درخواست اے آر اے پی کے درخواست قبول کرنے کے بعد 30 دن کے اندر دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح 1 جولائی 2025 سے نئے درخواست دہندگان کے لیے یہ اسکیم بند کر دی گئی ہے تاہم پہلے جمع شدہ درخواستوں پر کام جاری رہے گا۔
افغان شہریوں کی آباد کاری اسکیم
اسی طرح اے سی آر ایس( افغان شہریوں کی دوبارہ آباد کاری اسکیم) ایک ریفرل پر مبنی پروگرام تھی جو کمزور افراد اور افغانستان میں برطانیہ کی معاونت کرنے والوں کو ترجیح دیتی تھی۔ اس اسکیم کے تحت 12,800 سے زائد افغان باشندے کامیابی سے برطانیہ منتقل ہو چکے ہیں، جن میں نصف سے زائد بچے اور ایک چوتھائی خواتین شامل ہیں۔ 1 جولائی 2025 کے بعد مزید ریفرلز بند کر دیے گئے، تاہم جو افراد پہلے سے ریفر کیے گئے تھے ان کے کیسز پر کام جاری رہے گا۔
افغانستان جواب دہی راستہ
اے آر آر اسکیم اپریل 2024 میں قائم کی گئی تاکہ فروری 2022 میں پیش آنے والے مخصوص واقعات سے متاثرہ افراد کو برطانیہ منتقل کیا جا سکے۔ اسکیم کے تحت وہ افراد جو دعوتی خط حاصل کر چکے تھے ان کی منتقلی تو جاری رہی لیکن نئے افراد کے لیے دعوتی خطوط کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔ اے آر آر کے تحت منتقلی والے افراد کی سخت چیکنگ اور سیکیورٹی کے بعد برطانیہ میں داخلہ ممکن ہو پایا ہے۔
عارضی اور مستقل رہائش
اے آر پی کے تحت منتقل ہونے والے افغان شہریوں کو زیادہ سے زیادہ 9 ماہ کے لیے عبوری رہائش فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ برطانیہ کی زندگی کے مطابق خود کو ڈھال سکیں اور آزادانہ زندگی گزارنے کی عادت ڈال سکیں۔ عبوری رہائش میں سروسڈ رہائش اور ہوٹلز شامل ہیں۔ اسی طرح تمام افغان خاندانوں کو مستقل رہائش کے لیے “اپنی رہائش خود تلاش کریں” پروگرام کے تحت اپنی رہائش خود تلاش کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ حکومت ان خاندانوں کو مالی معاونت، اضافی سرمایہ کاری، کمیونٹی اسپانسرشپ اور سروس فیملی رہائش کے ذریعے سہولت فراہم کرتی ہے۔
مالی معاونت
اے آر پی کے تحت تین سال کے لیے فی خاندان 24,110 پاؤنڈ کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے پہلے سال میں تین قسطیں: 5,400، 3,600، اور 3,410 پاؤنڈ۔
دوسرے اور تیسرے سال میں اضافی ادائیگیاں: 6,550 اور 5,150 پاؤنڈ ہیں۔
یہ تمام ادائیگیاں مقامی اتھارٹی یا مستقل رہائش فراہم کرنے والے ادارے کو کی جاتی ہیں تاکہ ابتدائی اور جاری اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔
جرمنی کی پالیسی
جرمنی نے پاکستان میں رہنے والے 640 افغان شہریوں کو اطلاع دی ہے کہ اب ان کی ملک میں داخلے میں کوئی سیاسی دلچسپی باقی نہیں رہی۔ یہ افراد امریکی حملے اور افغانستان پر قبضے کے دوران جرمن فوج کے ساتھ کام کر چکے تھے۔
انسانی حقوق سے متعلق گروہوں نے اس فیصلے کو دھوکہ اور عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ Pro Asyl کے سربراہ کارل کوپ نے کہا کہ نئی حکومت کے لیے یہ عمل خطرے میں لوگوں کے ساتھ شرمناک سلوک ہے۔ اس فیصلے کے بعد تقریباً 1,800 افغان جو جرمنی منتقل ہونے کے لیے منظور کیے گئے تھے، طویل عرصے سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور یہ افراد افغانستان واپس جانے پر مجبور بھی ہو سکتے ہیں۔
پاکستان میں امریکی ری سیٹلمنٹ کے منتظر افغان
پاکستان میں امریکی ری سیٹلمنٹ کے منتظر افغان پناہ گزین غیر یقینی اور پیچیدہ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد امریکی پناہ گزین پروگرام معطل ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ افغان جو امریکی ری سیٹلمنٹ کے لیے پاکستان میں انتظار کر رہے تھے، اپنے مستقبل کے بارے میں مکمل طور پر بے یقینی کی کیفیت میں ہیں۔ پاکستان نے مارچ 31 تک کیسز پروسیس نہ ہونے کی صورت میں افغان باشندوں کو تیسرے ممالک میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے جس سے یہ افراد نہ صرف قانونی مشکلات بلکہ سماجی اور اقتصادی خطرات سے بھی دوچار ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں تقریباً 9,000 افغان پاکستان سے واپس افغانستان گئے، جن میں دسمبر میں 1,200 شامل تھے۔ اکتوبر 2023 سے جنوری 2025 کے دوران مجموعی طور پر 813,000 افغان واپس افغانستان لوٹے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ لاکھوں افغان پناہ گزین پاکستان میں غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی زندگی، روزگار اور حفاظت مسلسل خطرے میں ہیں۔
پاکستان کے تحفظات
حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام اس سلسلے میں متعدد تحفظات رکھتے ہیں۔ سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد ملک کی محدود وسائل، بنیادی ڈھانچے اور سکیورٹی پر بوجھ ڈال سکتی ہے۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک میں ری سیٹلمنٹ کے لیے مستقل قانونی راستہ موجود نہیں ہے اور افغان پناہ گزینوں کی رہائش، تعلیم، صحت اور روزگار کے انتظامات محدود ہیں۔ اسی طرح امن و امن کی بگڑتی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اسلام آباد نے افغانوں کی رہائش پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
مزید یہ کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنے وعدوں اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود بھی افغان پناہ گزینوں کی منتقلی کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے۔ پاکستان یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ افغان منتقلی کے عمل کے دوران پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور مقامی کمیونٹیز پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔ پاکستان کے لیے یہ بھی ایک چیلنج ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کے تقاضوں اور ملکی مفاد کے درمیان توازن قائم رکھے۔
More than 50 well-known German figures have sent an open letter to the federal government, urging it to urgently transfer all Afghans who have been promised admission to Germany.
— TOLOnews English (@TOLONewsEnglish) December 24, 2025
According to German media, the letter stresses that around 1,800 Afghans who previously worked with… pic.twitter.com/itCHS42FNa
بین الاقوامی مطالبات اور خدشات
بین الاقوامی سطح پر افغان پناہ گزینوں کے تحفظ کے لیے بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ٹوولو نیوز کے مطابق 50 سے زائد مشہور جرمن شخصیات نے وفاقی حکومت کو کھلا خط لکھا ہے، جس میں زور دیا گیا کہ جن افغانوں کو جرمنی میں داخلے کا وعدہ کیا گیا تھا، انہیں فوری طور پر منتقل کیا جائے۔ خط میں یہ بھی بتایا گیا کہ تقریباً 1,800 افغان جبراً واپس بھیجے جانے کے خطرے میں ہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا لازمی ہے۔ اس اقدام کی تعمیل نہ ہونے کی صورت میں افغان پناہ گزین “پرسیکیوشن، زیادتی اور موت” کے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
ان تمام تر حالات اور غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں پاکستان میں امریکی ری سیٹلمنٹ کے منتظر افغان پناہ گزینوں کی صورتحال ایک سنگین انسانی اور قانونی مسئلہ بن چکی ہے۔ ملک میں غیر یقینی قانونی فریم ورک، محدود وسائل، سخت رہائشی پابندیاں اور ممکنہ سماجی کشیدگی افغان پناہ گزینوں کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ عالمی دباؤ کے باوجود پاکستان اپنے قومی تحفظ اور سکیورٹی کے خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے۔ زیرِ نظر صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ افغان دوبارہ آباد کاری ایک پیچیدہ عالمی مسئلہ ہے، جس میں بین الاقوامی شراکت دار، انسانی ہمدردی کے تقاضے اور مقامی حکام کے تحفظات ایک ساتھ متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔