"> تاجکستان میں افغان سرزمین سے دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر آج سوگ منایا جا رہا ہے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

تاجکستان میں افغان سرزمین سے دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر آج سوگ منایا جا رہا ہے

تاجک حکام کے مطابق یہ واقعہ ضلع شمسی الدین شاہین میں واقع بوگ سرحدی چوکی کے قریب پیش آیا۔ جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا کہ افغانستان سے غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تین مسلح افراد کو سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا۔
تاجکستان میں افغان سرزمین سے دو سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر آج سوگ منایا جا رہا ہے

جھڑپ کے دوران نوروزبیکوف زیرابون نغزیبیکووچ اور قربانوف اسماتولو غلامووچ اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔

December 26, 2025

تاجکستان کے سرحدی علاقوں میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے، جہاں افغانستان سے دراندازی کے دوران ہونے والے ایک سرحد پار حملے میں تاجک سرحدی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

تاجک حکام کے مطابق یہ واقعہ ضلع شمسی الدین شاہین میں واقع بوگ سرحدی چوکی کے قریب پیش آیا۔ جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا کہ افغانستان سے غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تین مسلح افراد کو سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دراندازوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم انہوں نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں تاجک سرحدی اہلکاروں اور مسلح افراد کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی۔

شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت

جھڑپ کے دوران نوروزبیکوف زیرابون نغزیبیکووچ اور قربانوف اسماتولو غلامووچ اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔


ریاستی میڈیا کے مطابق دونوں اہلکاروں کو بہادری اور فرض شناسی کی مثال قرار دیا جا رہا ہے، جنہوں نے ملکی سرحدوں کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کی۔

اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد

جھڑپ کے بعد تاجک سیکیورٹی فورسز نے موقع سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور جنگی سازوسامان برآمد کیا، جس میں ایم-16 رائفلز، کلاشنکوف رائفلز، سائلنسر لگے تین پستول، 10 دستی بم، دھماکہ خیز مواد اور نائٹ ویژن آلات شامل ہیں۔

حکام کے مطابق یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ مذکورہ گروہ کسی بڑے تخریبی یا مسلسل سرحد پار حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

بڑھتی ہوئی تشویش اور سیکیورٹی اقدامات

یہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران اسی سرحدی علاقے میں تیسرا مسلح واقعہ یا غیرقانونی دراندازی ہے، جس نے خطے میں عدم استحکام پر تشویش بڑھا دی ہے۔

تاجکستان کی ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے واقعے کے بعد سرحدی علاقوں میں گشت اور سرچ آپریشنز مزید سخت کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوری خطرہ ختم کر دیا گیا ہے، تاہم سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فورسز مسلسل الرٹ رہیں گی۔

تاجک حکومت کے مطابق علاقائی امن اور عوام کے تحفظ کے لیے غیرقانونی سرحدی نقل و حرکت کو روکنا اولین ترجیح ہے۔

دیکھیں: افغان طالبان کی حکومت میں خوفزدہ شہری اور بڑھتے ہوئے جرائم

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *