نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سالانہ اختتامی بریفنگ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی، علاقائی سلامتی، بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی، افغانستان سے تعلقات اور عالمی فورمز پر پاکستان کے کردار سے متعلق تفصیلی مؤقف پیش کیا۔
دو ہزار ستائیس میں دو عالمی سربراہی اجلاسوں کی میزبانی
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان 2027 میں دو اہم سربراہی اجلاسوں کی میزبانی کرے گا، جن میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے عالمی سفارتی مقام پر اعتماد کا اظہار ہے۔
افغانستان سے متعلق پیش رفت
اسحاق ڈار نے افغان علما کی جانب سے افغانستان سے باہر لڑائی کی مخالفت پر مبنی قرارداد اور افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے اس بیان کا خیر مقدم کیا جس میں افغان سرزمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یہی چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کو افغانستان کے لیے انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دے رکھی ہے۔
بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس پر پاکستان کا مؤقف
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان بین الاقوامی اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت پر صرف اسی صورت آمادہ ہوگا جب اس کا مینڈیٹ امن برقرار رکھنے تک محدود ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ایسی فورس کا حصہ نہیں بنے گا جس کا مقصد امن نافذ کرنا یا حماس کو غیر مسلح کرنا ہو، تاہم پاکستان امن مشن میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
چین اور امریکا سے تعلقات
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات امریکا سے تعلقات سے آزاد اور خودمختار ہیں۔ ان کے مطابق چین پاکستان تعلقات مثالی اور مثالی نوعیت کے ہیں اور یہ شراکت داری کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔
بھارت کے ساتھ مئی کی کشیدگی کی تفصیلات
وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ بھارت کی جانب سے کشیدگی میں اضافے کے بعد پاکستان نے 9 مئی کی شب جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا تھا، جس کی وزیراعظم نے 10 مئی کی صبح 4 بجے سے 8 بجے تک اجازت دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ صبح تقریباً 8 بج کر 17 منٹ پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے رابطہ کیا اور بتایا کہ بھارت جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔ اس پر پاکستان نے جواب دیا کہ وہ کبھی جنگ نہیں چاہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کہا ہے کہ اللّٰہ نے پاکستان کو عالمی برادری میں بہت پذیرائی دی ہے۔ پاک بھارت جنگ میں مسلح افواج نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا۔ اس چار دن کے تنازع میں پاکستان کی کارکردگی ٹیسٹ ہوئی۔
فضائی جھڑپ اور بھارتی بیانیے کی نفی
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ خطے میں بھارت کے خود کو نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر قرار دینے کا تاثر پاکستان کے مؤثر ردعمل سے ختم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کسی سے ثالثی کی درخواست نہیں کی۔ 6 اور 7 مئی کی فضائی جھڑپوں میں پاکستان نے 7 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے۔
بھارتی ڈرون حملوں کا جواب
وزیر خارجہ کے مطابق مئی میں چار روزہ کشیدگی کے دوران بھارت کی جانب سے فائر کیے گئے 80 ڈرونز میں سے 79 کو پاکستان نے ناکارہ بنا دیا۔ صرف ایک ڈرون ایک عسکری تنصیب تک پہنچا جس سے محدود نقصان اور چند افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اس دوران کسی قسم کی مفاہمت کی بھیک نہیں مانگی۔
امریکی صدر کا اعتراف
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی صدر 60 سے زائد بار دنیا کو پاکستان کی فتح کا بتا چکے، امریکا کے ساتھ ہماری تجارت 13.28 ارب ڈالر ہو گئی ہے، ہمارا ٹریڈ سرپلس ہے، ہمارا امریکا کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون بڑھا ہے، امریکا نے اس سال بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا۔
مسئلہ کشمیر پر مؤقف
وزیر خارجہ نے کہا کہ یو این سیکیورٹی کونسل نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کی، یہ معاملہ کشمیری عوام کے حق استصواب رائے سے حل ہو گا۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونے تک خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔ بھارت نے پہلگام واقعے کے بے بنیاد الزامات پاکستان پر لگائے۔
سعودی عرب کی ثالثی کا اعتراف
وزیر خارجہ نے پاک افغان کشیدگی میں کمی کے لیے سعودی عرب کے طویل عرصے سے جاری پس پردہ ثالثی کردار کی باضابطہ تصدیق بھی کی۔ ان کے مطابق سعودی عرب، قطر اور ترکی میں طالبان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔
دورہ بنگلہ دیش
انہوں نے کہا کہ اس سال سب سے بڑی پیش رفت بنگلادیش سے متعلق ہوئی، گیارہ بارہ سال پہلے حنا ربانی کھر ایک دعوت دینے بنگلادیش گئیں، اس وقت بنگلادیش کی حکومت پاکستان مخالف تھی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس سال میرا بنگلادیش کا دورہ کافی مثبت رہا، بنگلادیش میں سب جماعتوں سے ملاقات کی، خالدہ ضیا اور جماعت اسلامی کے سربراہ سے گھر جا کر ملاقاتیں کیں، بنگلا دیش میں فروری میں انتخابات ہو رہے ہیں، انتخابات کے بعد انہیں انگیج کریں گے۔
یو اے ای اور پاکستان کے تعلقات
اسحاق ڈار نے کہا کہ یو اے ای کے صدر کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی، دورہ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یو اے ای جنوری میں 2 ارب ڈالر کے رول اوور کیلیے تیار ہے جبکہ اس کے بقایا 2 ارب ڈالر کے عوض بھی سرمایہ کاری ہوگی۔
یو اے ای اور فوجی فاؤنڈیشن کی شراکت داری
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ کہ یو اے ای صدر نے وزیراعظم سے اس سال پاکستان دورے کا وعدہ کیا تھا، یو اے ای صدر کا دورہ پاکستان خوش آئند ہے، دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی شعبوں پر گفتگو ہوئی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یو اے ای کے تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یو اے ای فوجی فاؤنڈیشن کے کچھ شیئرز لے گا اور یہ لائبلیٹی ختم ہوگی۔ جنوری کے 2 ارب کے رول اوور پر بھی بات ہوئی کوشش ہوگی کہ وہ اس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ یو اے ای نے 3 ارب ڈالرز دیے تھے۔
اختتامی مؤقف
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی امن اور قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم خطے میں استحکام اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
دیکھیں: افغانستان سے لیبیا تک: پاکستان کی علاقائی حکمتِ عملی