پاکستان میں متعین تاجکستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن سعید جان شفیع زادہ اسماعیل سیڈجون نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات محبت اور اخوت کی بنیاد پر استوار ہیں۔ انہوں نے تجارتی اور سفارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت تجارتی حجم کو 30 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کی نشاندہی کی۔
ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے دونوں ممالک کے مابین براہ راست پروازوں کی بحالی پر ہونے والی بات چیت پر روشنی ڈالی، جس سے نہ صرف سفری سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ تجارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ثقافتی اور تہذیبی روایات کی تعریف کرتے ہوئے اسلام آباد کی جدیدیت اور لاہور کے ثقافتی مرکز ہونے کی خصوصیات کو سراہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے تاجکستان کی آزادی کو تسلیم کیا، اور تاجکستانی عوام اور حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو فخر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ثقافتی تبادلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانی کھانوں خصوصاً بریانی، حلوہ اور بار بی کیو کے ساتھ ساتھ استاد راحت فتح علی خان کے صوفی کلام سے لطف اندوز ہونے کا اظہار بھی کیا۔
دیکھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی پنجاب اسمبلی آمد پر ہنگامے کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل