افغانستان کے لیے امریکا کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے کابل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں افغانستان اور امریکا کے درمیان دو طرفہ تعلقات، موجودہ رابطوں، مواقع اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
افغان وزارت خارجہ کے مطابق مولوی امیر خان متقی نے اس موقع پر کہا کہ چار سال سے زائد عرصہ قبل غیر ملکی افواج کے انخلا اور جنگ کے خاتمے کے بعد افغانستان اسلامی امارت اور امریکا کے درمیان روابط عملی طور پر ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کو آگے بڑھانے کے مواقع موجود ہیں، جن پر مسلسل بات چیت کے ذریعے کام کیا جا سکتا ہے۔
بیان کے مطابق زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال اور تعمیر نو کے شعبے میں پیش رفت کو قابلِ ستائش قرار دیا اور دونوں فریقین کے درمیان رابطوں کو اہم قرار دیتے ہوئے ایسی ملاقاتوں کے تسلسل پر زور دیا۔
تاہم مبصرین کے مطابق خلیل زاد کی کابل آمد کو سیاسی تسلیم سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی پالیسی کے مطابق اگست 2021 کے بعد سے طالبان کے ساتھ رابطے محدود، عملی نوعیت کے اور مخصوص امور تک محدود ہیں، جن میں انسانی امداد کی رسائی، انسدادِ دہشت گردی خدشات اور بعض پابندیوں میں استثنا جیسے معاملات شامل ہیں۔
امریکی حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ ان روابط کا مقصد طالبان حکومت کو باضابطہ سیاسی حیثیت دینا نہیں۔ امریکا تاحال افغانستان کے مرکزی بینک کے تقریباً 7 ارب ڈالر سے زائد منجمد اثاثے بحال نہیں کر رہا اور خواتین کے حقوق، جامع طرزِ حکومت اور دہشت گردی کے حوالے سے ٹھوس ضمانتوں کو اپنی بنیادی شرائط قرار دیتا ہے۔
اگرچہ خلیل زاد کی جانب سے سکیورٹی اور تعمیر نو سے متعلق مثبت ریمارکس سامنے آئے ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ سے منسلک عناصر اور داعش خراسان شامل ہیں، کی موجودگی اور نقل و حرکت کی نشاندہی کرتی رہی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق سکیورٹی کی صورتحال خطے میں یکساں اور غیر متنازع نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چار سال گزرنے کے باوجود امریکا اور طالبان کے درمیان کئی بنیادی مسائل حل طلب ہیں، جن میں سیاسی تسلیم، مالیاتی نظام کی بحالی، دہشت گرد نیٹ ورکس، مہاجرین کا بحران اور علاقائی سلامتی کے اثرات شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محض بات چیت سے ان گہرے اختلافات کا حل ممکن نہیں ہو سکا۔
اسلامی امارتِ افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی (@FMMuttaqi) نے سابق امریکی خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد (@realZalmayMK) سے ملاقات کی جس میں افغانستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ سے متعلق مواقع، امکانات اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ… pic.twitter.com/MO5UuwqTLs
— HTN Urdu (@htnurdu) December 28, 2025
ماہرین کے مطابق اس طرح کی ملاقاتوں کی تشہیر کابل کے لیے سفارتی طور پر فائدہ مند ہو سکتی ہے، کیونکہ افغانستان اس وقت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن ان رابطوں کو تکنیکی اور عملی سطح تک محدود رکھتا ہے اور انہیں سیاسی معمول پر آنے کے طور پر پیش نہیں کرتا۔
علاقائی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ امریکا اور طالبان کے درمیان کسی بھی قسم کی مصروفیت کے خطے پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، خصوصاً پاکستان اور ایران کو درپیش سرحد پار عسکریت پسندی اور شدت پسندوں کے ممکنہ محفوظ ٹھکانوں کے حوالے سے خدشات کے تناظر میں۔ ان کے مطابق جوابدہی کے بغیر مکالمہ بداعتمادی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسے روابط اور ملاقاتیں آئندہ بھی جاری رہ سکتی ہیں، لیکن جب تک حکمرانی، انسانی حقوق اور قابلِ تصدیق انسدادِ دہشت گردی اقدامات پر ٹھوس پیش رفت نہیں ہوتی، امریکا اور افغانستان کے درمیان تعلقات محدود، مشروط اور کڑی نگرانی کے دائرے میں ہی رہیں گے، نہ کہ کسی “نئے مرحلے” میں داخل ہوں گے۔
دیکھیں: افغانستان سے لیبیا تک: پاکستان کی علاقائی حکمتِ عملی