حالیہ دنوں میں بین الاقوامی اور قومی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس اس امر کی واضح عکاسی کرتی ہیں کہ شدید بھارتی لابنگ اور منفی پروپیگنڈے کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر، بالخصوص واشنگٹن میں، اپنی سفارتی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے پسِ منظر میں جہاں ریاستی اداروں کی مربوط حکمتِ عملی کارفرما ہے، وہیں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کے سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی کے بیانیے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا جانا بھی ایک کلیدی عنصر ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف سمیت دیگر بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے بھرپور لابنگ کی، تاہم اس بار اس کی کوششیں بارآور ثابت نہ ہو سکیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات، انٹیلی جنس تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی سنجیدہ حکمتِ عملی کے ذریعے امریکی فیصلہ سازوں کا اعتماد حاصل کیا۔ اس ضمن میں جنرل عاصم منیر کی جانب سے یہ واضح پیغام کہ پاکستان کسی بھی شکل میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا، عالمی حلقوں میں سنجیدگی سے لیا گیا۔
جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں محض طاقت کے استعمال کے بجائے ریاستی بیانیے، سفارت کاری اور عالمی تعاون کو یکجا کیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں، جن کی قیمت ہزاروں جانوں اور بھاری معاشی نقصان کی صورت میں ادا کی گئی، اب محض اعداد و شمار نہیں رہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ عالمی حقیقت بن چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے خلاف منظم سفارتی مہم، جھوٹے الزامات اور میڈیا پروپیگنڈے کے باوجود، زمینی حقائق اب عالمی برادری کے سامنے آ رہے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کا اعترافی بیان، مختلف ممالک میں بھارتی نیٹ ورکس کے انکشافات اور حالیہ رپورٹس بھارت کے اس دعوے کو کمزور کرتی ہیں کہ وہ خطے میں استحکام کا ضامن ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان نے جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ایک واضح، دوٹوک اور ذمہ دار ریاستی مؤقف اختیار کیا ہے۔
یہ سفارتی کامیابی پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے، مگر اس کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ داخلی استحکام، معاشی بحالی اور بہتر گورننس کے بغیر خارجہ محاذ پر حاصل کی گئی کامیابیاں دیرپا نہیں ہو سکتیں۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے ریاستی مفادات کے تحفظ کو ممکن بنایا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نہ صرف دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط حلیف بن کر ابھرا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے میں بھی کامیاب ہوا ہے۔ دنیا اب محض بیانات نہیں بلکہ عملی کردار کو دیکھتی ہے، اور اگر پاکستان اسی سنجیدگی اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو بھارتی پروپیگنڈا مزید کمزور اور پاکستان کا عالمی کردار مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔
دیکھیں: افغان مہاجرین سے متعلق ماہرہ خان کا بیان اور پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خدشات