بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا فیصل مسجد میں اہم خطاب؛ خطے میں امن کے قیام اور فتنوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم اور عاصم منیر کی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین۔

April 17, 2026

تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل۔

April 17, 2026

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد عامر سہیل نے افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور بھارتی ایجنسی ‘را’ کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔

April 17, 2026

پاکستان کا شفافیت اور صاف حکمرانی کی جانب تاریخی سفر جاری

نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 کے مطابق 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ انہوں نے کسی سرکاری کام کے لیے رشوت ادا نہیں کی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روزمرہ سرکاری معاملات میں نظم و ضبط اور ضابطہ کاری میں بہتری آ رہی ہے۔ اسی طرح پولیس سے متعلق عوامی تاثر میں 2023 کے مقابلے میں 6 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی، جو ایک اہم مثبت تبدیلی ہے۔

صوبائی سطح پر بھی اینٹی کرپشن اداروں، آڈٹ محکموں اور پروکیورمنٹ اتھارٹیز نے ڈیجیٹل نظام اپنائے ہیں۔ آن لائن شکایات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور عوامی رسائی نے احتساب کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

December 29, 2025

پاکستان طویل عرصے سے بدعنوانی اور اس سے بھی زیادہ نقصان دہ بدعنوانی کے تاثر جیسے دوہرے چیلنج کا سامنا کرتا رہا ہے۔ یہ تاثر زیادہ تر بین الاقوامی تبصروں، منتخب میڈیا بیانیوں اور تاریخی پس منظر کے باعث تشکیل پایا۔ تاہم اب یہ بیانیہ پاکستان کی موجودہ زمینی حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ آج کا پاکستان دستاویزی نظام کو مضبوط بنا رہا ہے، سرکاری امور کو ڈیجیٹل کر رہا ہے، نفاذ کی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے اور عالمی شفافیت کے معیارات سے ہم آہنگ ہو چکا ہے، مگر اس کے باوجود پرانا تاثر اب بھی حاوی دکھائی دیتا ہے۔

حقیقت اور تاثر کے درمیان فرق شہری سطح پر واضح نظر آتا ہے۔ نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 کے مطابق 66 فیصد پاکستانیوں نے بتایا کہ انہوں نے کسی سرکاری کام کے لیے رشوت ادا نہیں کی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روزمرہ سرکاری معاملات میں نظم و ضبط اور ضابطہ کاری میں بہتری آ رہی ہے۔ اسی طرح پولیس سے متعلق عوامی تاثر میں 2023 کے مقابلے میں 6 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی، جو ایک اہم مثبت تبدیلی ہے۔

نفاذِ قانون کے اعداد و شمار بھی اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہیں۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی مجموعی وصولیاں 12.3 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکی ہیں، جن میں سے 11.4 ٹریلین روپے صرف 2 سال 9 ماہ میں وصول کیے گئے۔ نیب کی کارکردگی اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اب احتساب محض نعرہ نہیں بلکہ ایک مؤثر نظام کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں ہر ایک روپے کے خرچ پر 643 روپے قومی خزانے میں واپس آئے۔

پاکستان کی شفافیت کی کوششوں کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا، جس کی واضح مثال ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے کامیاب اخراج ہے۔ اس کے لیے مالی نگرانی، مشکوک لین دین کی رپورٹنگ، ادارہ جاتی تعاون اور ضابطہ جاتی اصلاحات کی گئیں۔ یہ کامیابی نہ صرف ایک تکنیکی سنگ میل تھی بلکہ پاکستان کے شفاف مالی نظام کے عزم کی عکاس بھی تھی، جس سے عالمی اعتماد اور سرمایہ کاری کے امکانات میں اضافہ ہوا۔

حکمرانی میں ڈیجیٹل تبدیلی اس عمل کا مرکزی ستون بن چکی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس نظام کو خودکار بنایا، ریئل ٹائم پوائنٹ آف سیل نظام متعارف کرایا، رسک بیسڈ آڈٹس کو ڈیجیٹل الگورتھمز کے ذریعے ممکن بنایا اور آن لائن ادائیگیوں کو فروغ دیا۔ ان اقدامات سے انسانی مداخلت کم ہوئی اور شفافیت میں اضافہ ہوا۔

اسی طرح سرکاری خریداری، جو ماضی میں بدعنوانی کے خطرات سے جڑی سمجھی جاتی تھی، اب ای پروکیورمنٹ کے ذریعے شفاف بنائی جا چکی ہے، جہاں ٹینڈرز، بولیاں اور کنٹریکٹس عوامی طور پر دستیاب ہوتے ہیں۔ میرٹ پر بھرتیوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ سروس جیسے اداروں کے ذریعے معیاری امتحانات کا نظام اپنایا گیا ہے، جس سے نوجوانوں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔

سماجی بہبود کے شعبے میں بھی نمایاں اصلاحات کی گئی ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقوم براہِ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی ہیں، جن کی تصدیق نادرا کے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہوتی ہے۔ نادرا کا بایومیٹرک شناختی نظام، جو 23 کروڑ سے زائد شہریوں کا احاطہ کرتا ہے، شفاف حکمرانی کی بنیاد بن چکا ہے۔

ٹیلی کام سیکٹر میں بھی نادرا کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق کے بغیر سم کارڈ کا اجرا ممکن نہیں، جس سے سیکیورٹی اور احتساب کو تقویت ملی ہے۔ ڈیجیٹل بینکنگ، آن لائن ادائیگیوں اور موبائل والٹس نے شہریوں اور سرکاری اداروں کے درمیان براہِ راست رابطے کم کر دیے ہیں، جس سے چھوٹی سطح کی بدعنوانی کے مواقع محدود ہوئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نگرانی میں 50 لاکھ روپے سے زائد کے لین دین کی خودکار مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔

صوبائی سطح پر بھی اینٹی کرپشن اداروں، آڈٹ محکموں اور پروکیورمنٹ اتھارٹیز نے ڈیجیٹل نظام اپنائے ہیں۔ آن لائن شکایات، ڈیجیٹل ریکارڈ اور عوامی رسائی نے احتساب کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اصلاحات وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کی ہیں۔ شفافیت اب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بن رہی ہے۔ اگرچہ بیرونی دنیا میں پاکستان کے بارے میں پرانا تاثر اب بھی موجود ہے، لیکن اندرونِ ملک زمینی حقائق ڈیٹا، ڈیجیٹل نظام اور قابلِ پیمائش اصلاحات کی گواہی دے رہے ہیں۔ پاکستان بتدریج ایک جدید، شفاف اور جوابدہ ریاست کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے ثمرات معیشت، عوامی اعتماد اور عالمی ساکھ میں واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

دیکھیں: پاکستان اور متحدہ عرب امارات: برادرانہ تعلقات کا نیا عہد

متعلقہ مضامین

بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا فیصل مسجد میں اہم خطاب؛ خطے میں امن کے قیام اور فتنوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم اور عاصم منیر کی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین۔

April 17, 2026

تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *