سکیورٹی فورسز نے نوکنڈی کے سرحدی علاقوں میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 179 افغان باشندوں کو گرفتار کر لیا۔ ذرائع کے مطابق گرفتار شدہ افراد کے پاس پاکستان میں داخلے کے لیے کوئی قانونی سفری دستاویزات نہیں تھی۔
ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار افغان باشندوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو بتایا کہ افغانستان میں نہ روزگار کے مواقع دستیاب ہیں اور نہ ہی معیاری تعلیم موجود ہیں جس کے باعث وہ بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں دیگر ممالک کا رخ کر رہے تھے۔
سکیورٹی فورسز نے تمام افراد کو حراست میں لے کر متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیا، جہاں ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ سکیورٹی حکام نے کہا کہ غیر قانونی آمد و رفت کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور سرحدی نگرانی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
سرحدی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی بڑھا دی گئی ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی سکیورٹی اور ملک کی حفاظت ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور عوامی تعاون اس عمل کو مزید مؤثر بنائے گا۔
دیکھیں: افغان مہاجرین سے متعلق ماہرہ خان کا بیان اور پاکستان کو درپیش سیکیورٹی خدشات