شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

October 2, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اور اب اس کے نفاذ کے تکنیکی معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے۔

October 2, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا، دونوں فریق کل دوبارہ مذاکرات کریں گے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی اہم معاملہ بن گئی۔

October 2, 2026

یمن: مکلا بندرگاہ پر فضائی حملہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں شدید کشیدگی

یمن میں عرب اتحاد نے مکلا بندرگاہ پر فضائی کارروائی کر کے غیر قانونی ہتھیاروں اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا
یمن میں سعودیہ کی زیرِ قیادت عرب اتحاد نے مکلا بندرگاہ پر فضائی کارروائی کیرتے ہوئے غیر قانونی ہتھیار اور جنگی گاڑیوں کو نشانہ بنایا

مکلا بندرگاہ پر فضائی حملے اور حضرموت میں جھڑپیں یمن کی خانہ جنگی کو پیچیدہ اور عرب اتحاد میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہیں

December 30, 2025

یمن میں سعودی عرب کی زیرِ قیادت عرب اتحاد نے مکلا بندرگاہ پر محدود فضائی کارروائی کی، جس کا مقصد غیر قانونی طور پر لائی گئی ہتھیار اور جنگی گاڑیاں نشانہ بنانا تھا۔ یہ کارروائی اماراتی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کو فوجی امداد فراہم کرنے والے غیر ملکی جہازوں کے خلاف کی گئی۔ دو بحری جہاز فجیرہ (متحدہ عرب امارات) سے بغیر اجازت بندرگاہ میں داخل ہوئے اس دوران ٹریکنگ سسٹم بند کیا اور بڑی مقدار میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتاری گئیں۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا بلکہ اصل اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ عرب اتحاد نے اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی، جس میں جہازوں سے ہتھیاروں کی منتقلی دکھائی گئی۔ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے تمام غیر قانونی افواج کو 24 گھنٹوں میں یمن چھوڑنے کی ہدایت دی۔

حضرموت میں جھڑپیں اور کشیدگی

ایس ٹی سی کے جنگجو مشرقی حضرموت میں آپریشن کر رہے تھے جب مخالف مسلح افراد نے ان پر گھات لگا کر حملے کیے، جس میں دو جنگجو ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد سعودی عرب کی فضائی کارروائی کی گئی تاکہ ایس ٹی سی کو خبردار کیا جا سکے کہ وہ اپنی فورسز واپس بلائے۔ قبائلی اتحاد کے رہنما فائز بن عمر کے مطابق یہ کارروائی ایس ٹی سی کو تنبیہ کرنے کے لیے تھی اور ایک عینی شاہد احمد الخید نے تباہ شدہ فوجی گاڑیاں دیکھنے کی اطلاع دی، جو ایس ٹی سی کی فورسز کی تھیں۔

شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ کوششوں کے تحت ایس ٹی سی کی افواج کو واپس بلایا جا رہا ہے، کیمپوں کو نیشنل شیلڈ فورسز کے حوالے کیا جا رہا ہے اور مقامی حکام کو اپنے فرائض انجام دینے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ کسی بھی فوجی کارروائی جو ان کوششوں کی خلاف ورزی کرے گی، اس کا فوری مقابلہ کیا جائے گا تاکہ شہری محفوظ رہیں اور اقدامات کامیاب ہوں۔

سعودی عرب کی وارننگ

سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کو دوٹوک انداز میں پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی افواج 24 گھنٹوں میں واپس بلائے اور کسی بھی یمنی گروپ کو فوجی یا مالی مدد فراہم کرنا بند کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات عرب اتحاد کے اصولوں اور یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کے خلاف ہیں اور کسی بھی خطرے کو “سرخ لکیر” سمجھ کر فوری کارروائی کی جائے گی۔

بین الاقوامی ردعمل

بحرین نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے تمام یمنی گروہوں سے کہا کہ وہ کشیدگی کم کریں اور پُرامن راستہ اپنائیں۔ قطر نے بھی یمن میں سماجی امن و سلامتی کو فروغ دینے والی تمام کوششوں کی مکمل حمایت کی اور یمنی جماعتوں سے تعاون کی تاکید کی۔ تاہم زمینی حقائق میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ ایس ٹی سی اور سعودی حمایت یافتہ نیشنل شیلڈ فورسز آمنے سامنے ہیں۔

تاریخی پسِ منظر

تحقیقات کے مطابق یمن کی جنگ 2014 میں اس وقت شدت اختیار کر گئی جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے صنعاء پر قبضہ کیا۔ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت جلاوطن ہو گئی اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے 2015 میں حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔ یاد رہے کہ ایس ٹی سی ابتدا میں اتحاد کا حصہ تھا مگر بعد میں جنوبی یمن میں خود حکمرانی کی خاطر الگ راہ اپنالی۔ حالیہ ہفتوں میں ایس ٹی سی نے دیگر سرکاری فوجوں اور ان کے اتحادیوں کو علاقے سے پیچھے دھکیل دیا، جس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر دباؤ آیا۔

موجودہ صورتحال

ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے تعلقات انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں اور ان کے حمایت یافتہ گروہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے یمن میں خانہ جنگی کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اور عرب اتحاد کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب اور یو اے ای بظاہر امن و استحکام کی بات کرتے ہیں، مگر عملی طور پر جنوبی یمن پر کنٹرول کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔ جنوبی مسئلہ صرف تمام یمنی فریقین، بشمول ایس ٹی سی، کے ساتھ مکالمے اور سیاسی حل کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

مکلا بندرگاہ پر فضائی کارروائی، حضرموت میں جھڑپیں، اور ایس ٹی سی کی زمینی پیش رفت نے کشیدگی کو بڑھایا ہے۔ اس سے نہ صرف یمن کی خانہ جنگی مزید پیچیدہ ہوئی ہے بلکہ عرب اتحاد کے استحکام پر بھی اثر پڑا ہے۔ بین الاقوامی اور علاقائی ممالک کشیدگی کم کرنے اور پرامن حل کی حمایت میں سرگرم ہیں، لیکن صورتحال اب بھی نازک اور غیر یقینی ہے۔

دیکھیں: حماس نے اپنے ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کا باضابطہ اعلان کردیا

متعلقہ مضامین

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

October 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *