یمن میں سعودی عرب کی زیرِ قیادت عرب اتحاد نے مکلا بندرگاہ پر محدود فضائی کارروائی کی، جس کا مقصد غیر قانونی طور پر لائی گئی ہتھیار اور جنگی گاڑیاں نشانہ بنانا تھا۔ یہ کارروائی اماراتی حمایت یافتہ جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) کو فوجی امداد فراہم کرنے والے غیر ملکی جہازوں کے خلاف کی گئی۔ دو بحری جہاز فجیرہ (متحدہ عرب امارات) سے بغیر اجازت بندرگاہ میں داخل ہوئے اس دوران ٹریکنگ سسٹم بند کیا اور بڑی مقدار میں ہتھیار اور جنگی گاڑیاں اتاری گئیں۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا بلکہ اصل اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ عرب اتحاد نے اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی، جس میں جہازوں سے ہتھیاروں کی منتقلی دکھائی گئی۔ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے تمام غیر قانونی افواج کو 24 گھنٹوں میں یمن چھوڑنے کی ہدایت دی۔
حضرموت میں جھڑپیں اور کشیدگی
ایس ٹی سی کے جنگجو مشرقی حضرموت میں آپریشن کر رہے تھے جب مخالف مسلح افراد نے ان پر گھات لگا کر حملے کیے، جس میں دو جنگجو ہلاک اور بارہ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد سعودی عرب کی فضائی کارروائی کی گئی تاکہ ایس ٹی سی کو خبردار کیا جا سکے کہ وہ اپنی فورسز واپس بلائے۔ قبائلی اتحاد کے رہنما فائز بن عمر کے مطابق یہ کارروائی ایس ٹی سی کو تنبیہ کرنے کے لیے تھی اور ایک عینی شاہد احمد الخید نے تباہ شدہ فوجی گاڑیاں دیکھنے کی اطلاع دی، جو ایس ٹی سی کی فورسز کی تھیں۔
شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ کوششوں کے تحت ایس ٹی سی کی افواج کو واپس بلایا جا رہا ہے، کیمپوں کو نیشنل شیلڈ فورسز کے حوالے کیا جا رہا ہے اور مقامی حکام کو اپنے فرائض انجام دینے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ کسی بھی فوجی کارروائی جو ان کوششوں کی خلاف ورزی کرے گی، اس کا فوری مقابلہ کیا جائے گا تاکہ شہری محفوظ رہیں اور اقدامات کامیاب ہوں۔
سعودی عرب کی وارننگ
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کو دوٹوک انداز میں پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی افواج 24 گھنٹوں میں واپس بلائے اور کسی بھی یمنی گروپ کو فوجی یا مالی مدد فراہم کرنا بند کرے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات عرب اتحاد کے اصولوں اور یمن کی قانونی حکومت کی حمایت کے خلاف ہیں اور کسی بھی خطرے کو “سرخ لکیر” سمجھ کر فوری کارروائی کی جائے گی۔
بین الاقوامی ردعمل
بحرین نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے تمام یمنی گروہوں سے کہا کہ وہ کشیدگی کم کریں اور پُرامن راستہ اپنائیں۔ قطر نے بھی یمن میں سماجی امن و سلامتی کو فروغ دینے والی تمام کوششوں کی مکمل حمایت کی اور یمنی جماعتوں سے تعاون کی تاکید کی۔ تاہم زمینی حقائق میں متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ ایس ٹی سی اور سعودی حمایت یافتہ نیشنل شیلڈ فورسز آمنے سامنے ہیں۔
تاریخی پسِ منظر
تحقیقات کے مطابق یمن کی جنگ 2014 میں اس وقت شدت اختیار کر گئی جب ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے صنعاء پر قبضہ کیا۔ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت جلاوطن ہو گئی اور سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے 2015 میں حکومت کی حمایت میں مداخلت کی۔ یاد رہے کہ ایس ٹی سی ابتدا میں اتحاد کا حصہ تھا مگر بعد میں جنوبی یمن میں خود حکمرانی کی خاطر الگ راہ اپنالی۔ حالیہ ہفتوں میں ایس ٹی سی نے دیگر سرکاری فوجوں اور ان کے اتحادیوں کو علاقے سے پیچھے دھکیل دیا، جس سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات پر دباؤ آیا۔
موجودہ صورتحال
ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے تعلقات انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں اور ان کے حمایت یافتہ گروہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے یمن میں خانہ جنگی کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے اور عرب اتحاد کے استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب اور یو اے ای بظاہر امن و استحکام کی بات کرتے ہیں، مگر عملی طور پر جنوبی یمن پر کنٹرول کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔ جنوبی مسئلہ صرف تمام یمنی فریقین، بشمول ایس ٹی سی، کے ساتھ مکالمے اور سیاسی حل کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
مکلا بندرگاہ پر فضائی کارروائی، حضرموت میں جھڑپیں، اور ایس ٹی سی کی زمینی پیش رفت نے کشیدگی کو بڑھایا ہے۔ اس سے نہ صرف یمن کی خانہ جنگی مزید پیچیدہ ہوئی ہے بلکہ عرب اتحاد کے استحکام پر بھی اثر پڑا ہے۔ بین الاقوامی اور علاقائی ممالک کشیدگی کم کرنے اور پرامن حل کی حمایت میں سرگرم ہیں، لیکن صورتحال اب بھی نازک اور غیر یقینی ہے۔
دیکھیں: حماس نے اپنے ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کا باضابطہ اعلان کردیا