خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی جام حکمتِ عملی کے نتیجے میں پاکستان کی وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تاجکستان کے ساتھ میٹ ایکسپورٹ میں نمایاں پیش رفت کے سبب پاکستان کا لائیوسٹاک سیکٹر ایک نئے ترقیاتی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ معاہدے کے تحت پاکستان تاجکستان کو ایک لاکھ تینتالیس ہزار ٹن حلال گوشت برآمد کرے گا، جس کی مجموعی مالیت 14.5 ملین ڈالر ہے۔
مؤثر تجارتی سہولیات کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 300 ملین ڈالر تک وسعت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے علاقائی اقتصادی ہم آہنگی کو مزید تقویت ملے گی۔
دوطرفہ تجارتی روابط کے فروغ کے لیے براہِ راست پروازوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا، جبکہ کاروباری اور سیاحتی تبادلوں کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تعلیمی تعاون میں بھی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کا اعلان کیا گیا ہے۔
پاکستان لائیوسٹاک اور حلال فوڈ سیکٹر کے ذریعے وسطی ایشیا میں معاشی اعتماد اور تجارتی شناخت کی ایک نئی داستان رقم کر رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی جامع سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان کو وسطی ایشیا میں تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کی نئی جہتیں حاصل ہو رہی ہیں۔
دیکھیں: اب تاجکستان بھی افغان رجیم کی دہشت گردی کا شکار ہوگیا