چین کے اس دعوے کے بعد کہ اس نے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی تنازعے کے دوران ثالثی کی تھی، بھارت نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق تنازعہ دونوں ممالک کے فوجی کمانڈروں کے درمیان براہ راست بات چیت سے حل ہوا تھا۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایک سمپوزیم میں کہا تھا کہ چین نے عالمی امن کے لیے پاک بھارت تنازعہ سمیت مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کیں۔ تاہم بھارتی میڈیا نے چین کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔
حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے اس معاملے پر حکومت پر تنقید کی ہے اور وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس رہنما جے رام رمیش نے کہا کہ پہلے امریکی صدر ٹرمپ اور اب چین کے ثالثی کے دعوے بھارت کی قومی سلامتی کے لیے تشویشناک ہیں۔
بھارت کی سرکاری پوزیشن واضح ہے کہ پاکستان اور بھارت کے دو طرفہ معاملات میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب تک بھارت کی طرف سے چین کے دعوے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
دیکھیں: معرکۂ حق کے بعد ڈھاکہ میں پاکستان اور بھارت کے نمائندوں کے درمیان پہلی غیر رسمی ملاقات