"> بھارتی وزیرِ خارجہ کے الزامات مسترد، دہشت گردی اور کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بھارتی وزیرِ خارجہ کے الزامات مسترد، دہشت گردی اور کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

ترجمان نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی اور جابرانہ فوجی قبضے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی اور بھاری قیمت ادا کر کے طے پایا۔

January 3, 2026

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے پاکستان سے متعلق حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیرِ خارجہ کے بے بنیاد اور اشتعال انگیز الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ بھارت ایک بار پھر اپنی ہمسایہ ریاستوں کے خلاف دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کے اپنے منفی کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں، بالخصوص پاکستان کے خلاف، دہشت گردی کے فروغ میں بھارت کا دستاویزی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کمانڈر کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کے خلاف منظم اور ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ ماورائے عدالت قتل، تخریب کاری کے لیے پراکسیز کا استعمال اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت جیسے واقعات بھی شدید تشویش کا باعث ہیں۔ یہ تمام اقدامات ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ اور اس کے پرتشدد حامیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی اور جابرانہ فوجی قبضے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی اور بھاری قیمت ادا کر کے طے پایا۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے نہ صرف علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہوگا بلکہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کے حوالے سے بھارت کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھیں گے۔ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا۔

دیکھیں: پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی: شفاف اور شہری مرکوز نظام کی جانب تاریخی اقدامات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *