اسلام آباد میں ہیوی ٹریفک پر پابندی نے توانائی کا بحران پیدا کر دیا؛ اٹک ریفائنری کا مرکزی یونٹ بند، خام تیل کی سپلائی رکنے اور اسٹوریج ٹینکس بھر جانے کے باعث پیداوار معطل۔

April 22, 2026

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم؛ پاکستان کے ثالثی کردار کی مکمل حمایت کا اعلان، ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری کے نئے باب کے آغاز کی امید۔

April 22, 2026

پاکستان کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کے دھاوے اور جھنڈا لہرانے کی شدید مذمت؛ دفترِ خارجہ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔

April 22, 2026

افغانستان کی معروف سیاسی شخصیات عبدالمنان شیوۂ شرق اور مجیب الرحمٰن رحیمی کا ڈیورنڈ لائن پر تاریخی اعتراف؛ پاکستان کو موجودہ سرحدوں کے ساتھ تسلیم کرنے کا اعلان، محمد محقق کے مؤقف کی تائید اور “پشتونستان” کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔

April 22, 2026

امیر ممالک کی صنعت کاری کا خمیازہ غریب دنیا نے سیلابوں کی صورت میں بھگتا؛ دہائیوں تک ماحولیاتی سائنس کو دانستہ دبانے کا انکشاف، کلائمیٹ چینج کے حل کے لیے اسلامی اصولوں کی اہمیت پر نئی بحث کا آغاز۔

April 22, 2026

پہلگام کے ایک سال بعد کا پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، بااعتماد اور عالمی سطح پر معتبر ہے۔ بھارت نے جس گڑھے کو پاکستان کے لیے کھودا تھا، وہ آج خود اس کی تزویراتی تنہائی کا سبب بن چکا ہے۔ یہ “پاور شفٹ” عارضی نہیں بلکہ ایک نئے دور کا آغاز ہے جہاں پاکستان خطے میں طاقت کا نیا مرکز بن کر ابھرا ہے۔

April 22, 2026

بھارتی وزیرِ خارجہ کے الزامات مسترد، دہشت گردی اور کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

ترجمان نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی اور جابرانہ فوجی قبضے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی اور بھاری قیمت ادا کر کے طے پایا۔

January 3, 2026

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے پاکستان سے متعلق حالیہ بیانات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے انہیں غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیرِ خارجہ کے بے بنیاد اور اشتعال انگیز الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ بھارت ایک بار پھر اپنی ہمسایہ ریاستوں کے خلاف دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے کے اپنے منفی کردار سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں، بالخصوص پاکستان کے خلاف، دہشت گردی کے فروغ میں بھارت کا دستاویزی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کمانڈر کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کے خلاف منظم اور ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ ماورائے عدالت قتل، تخریب کاری کے لیے پراکسیز کا استعمال اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی خفیہ معاونت جیسے واقعات بھی شدید تشویش کا باعث ہیں۔ یہ تمام اقدامات ہندوتوا کی انتہا پسندانہ سوچ اور اس کے پرتشدد حامیوں کے تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی اور جابرانہ فوجی قبضے کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو نیک نیتی اور بھاری قیمت ادا کر کے طے پایا۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی کسی بھی یکطرفہ خلاف ورزی سے نہ صرف علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہوگا بلکہ بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے احترام کے حوالے سے بھارت کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھیں گے۔ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا۔

دیکھیں: پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی: شفاف اور شہری مرکوز نظام کی جانب تاریخی اقدامات

متعلقہ مضامین

اسلام آباد میں ہیوی ٹریفک پر پابندی نے توانائی کا بحران پیدا کر دیا؛ اٹک ریفائنری کا مرکزی یونٹ بند، خام تیل کی سپلائی رکنے اور اسٹوریج ٹینکس بھر جانے کے باعث پیداوار معطل۔

April 22, 2026

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم؛ پاکستان کے ثالثی کردار کی مکمل حمایت کا اعلان، ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری کے نئے باب کے آغاز کی امید۔

April 22, 2026

پاکستان کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی آباد کاروں کے دھاوے اور جھنڈا لہرانے کی شدید مذمت؛ دفترِ خارجہ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا۔

April 22, 2026

افغانستان کی معروف سیاسی شخصیات عبدالمنان شیوۂ شرق اور مجیب الرحمٰن رحیمی کا ڈیورنڈ لائن پر تاریخی اعتراف؛ پاکستان کو موجودہ سرحدوں کے ساتھ تسلیم کرنے کا اعلان، محمد محقق کے مؤقف کی تائید اور “پشتونستان” کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔

April 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *