امریکہ کے سابق وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے ایران میں جاری عوامی احتجاج اور بدامنی کے حوالے سے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قیادت شدید دباؤ کا شکار ہے اور ملک بھر کے مختلف شہروں میں پھیلتی بے چینی نے حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں مائیک پومپیو نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت اقتدار برقرار رکھنے کے لیے کرائے کے جنگجوؤں پر انحصار کر رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ نظام سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درجنوں شہروں میں مظاہرے اور ہنگامے جاری ہیں جبکہ بسیج فورس شدید دباؤ میں ہے۔
مائیک پومپیو کے مطابق مشہد، تہران اور زاہدان سمیت کئی اہم شہروں میں صورتحال کشیدہ ہے اور بدامنی کے پھیلاؤ کا اگلا مرکز بلوچستان بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 47 سال سے قائم ایرانی نظام اب کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے اور موجودہ حالات کسی بڑے سیاسی موڑ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
امریکی سابق وزیر خارجہ نے ایرانی عوام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے تمام ایرانیوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے نئے سال کے موقع پر مظاہرین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کی آواز کو دبانا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
پومپیو کے بیان کو عالمی سطح پر ایران کی داخلی صورتحال پر ایک اور سخت امریکی مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس پر تہران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم، چھ افراد ہلاک