ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے 3 جنوری 2026 کو اپنے خطاب میں واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی ایسے دشمن کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا جو زبردستی اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب قوم اور ریاست کو یہ احساس ہو جائے کہ دشمن طلبکارانہ انداز میں دباؤ ڈال رہا ہے تو پھر پوری طاقت کے ساتھ اس کے مقابل کھڑا ہونا ضروری ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران خدا پر مکمل بھروسے اور عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرے گا اور کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی قوم کی طاقت اور نوجوانوں کی صلاحیت ہی وہ عنصر ہے جس نے دشمن کو ماضی میں جنگ روکنے اور پسپائی پر مجبور کیا۔
انہوں نے بازار اور تاجر طبقے کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ طبقہ اسلامی جمہوریہ کے ساتھ وفادار ہے، اور حالیہ دنوں میں کرنسی کی قدر میں کمی اور معاشی عدم استحکام کے خلاف ہونے والے احتجاجات جائز تھے۔ ان کے مطابق عوامی مسائل پر احتجاج ایک فطری عمل ہے، تاہم اس کی آڑ میں بدنظمی اور انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ایرانی رہبرِ اعلیٰ نے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی شرح میں غیر معمولی اضافے کو “غیر فطری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دشمن کی منظم کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق صدرِ مملکت اور حکومت کے دیگر ادارے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن سے وابستہ عناصر جائز احتجاجات کو استعمال کرتے ہوئے اسلام مخالف، ایران مخالف اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگوانے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن عوام کو چاہیے کہ احتجاج اور بدامنی کے درمیان واضح فرق کو سمجھیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ایران کی طاقت اس کے عوام، اس کے نوجوان اور اس کا عقیدہ ہے، اور یہی عناصر دشمنوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتے رہیں گے۔
دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم، چھ افراد ہلاک