"> قطر کی یمن میں سیاسی مکالمے کی حمایت، ریاض کانفرنس کا خیرمقدم - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

قطر کی یمن میں سیاسی مکالمے کی حمایت، ریاض کانفرنس کا خیرمقدم

بیان کے اختتام پر قطر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ یمن کے بحران کے پرامن حل کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، تاکہ مکالمے اور سیاسی ذرائع کے ذریعے یمن اور پورے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
قطر کی یمن میں سیاسی مکالمے کی حمایت، ریاض کانفرنس کا خیرمقدم

قطری وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدرِ صدارتی قیادت کونسل کی یہ پیش رفت اس امر کی عکاس ہے کہ وہ قومی مسائل کے حل کے لیے مکالمے کو بنیادی ذریعہ سمجھتے ہیں۔

January 3, 2026

ریاستِ قطر نے یمن میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے جائز یمنی حکومت کی جانب سے مکالمے کے عمل کو آگے بڑھانے اور جنوبی مسئلے کے حل کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ نے اس تناظر میں یمن کے صدارتی قیادت کونسل کے صدر کی جانب سے ریاض میں ایک جامع کانفرنس بلانے کی درخواست کو سراہا ہے، جس کا مقصد تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا اور منصفانہ حل پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔

قطری وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدرِ صدارتی قیادت کونسل کی یہ پیش رفت اس امر کی عکاس ہے کہ وہ قومی مسائل کے حل کے لیے مکالمے کو بنیادی ذریعہ سمجھتے ہیں۔ قطر نے اس کانفرنس کی میزبانی پر سعودی عرب کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام یمن میں امن و استحکام کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت کا مظہر ہے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاض میں منعقد ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں جنوبی یمن کے تمام سیاسی و سماجی دھڑوں کی تعمیری شرکت نہایت اہم ہے، تاکہ فیصلے یمنی عوام کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کیے جا سکیں۔ قطر نے واضح کیا کہ قومی مکالمہ کانفرنس کے طے شدہ نتائج کو ایک متفقہ فریم ورک کے طور پر اپنایا جانا چاہیے، کیونکہ یہی ایک جامع اور قابلِ قبول طریقہ ہے جو تمام یمنی عوام کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے اور یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو محفوظ رکھتا ہے۔

قطری وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی فریق نے باہمی مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے کے بغیر یکطرفہ اعلانات یا اقدامات کیے تو اس کے نتیجے میں انتشار اور بدامنی پیدا ہو سکتی ہے، جو یمنی عوام کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ پائیدار سیاسی حل کی کوششوں کو بھی کمزور کر دے گی۔

بیان کے اختتام پر قطر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ یمن کے بحران کے پرامن حل کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، تاکہ مکالمے اور سیاسی ذرائع کے ذریعے یمن اور پورے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم، چھ افراد ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *