ریاستِ قطر نے یمن میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے جائز یمنی حکومت کی جانب سے مکالمے کے عمل کو آگے بڑھانے اور جنوبی مسئلے کے حل کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ نے اس تناظر میں یمن کے صدارتی قیادت کونسل کے صدر کی جانب سے ریاض میں ایک جامع کانفرنس بلانے کی درخواست کو سراہا ہے، جس کا مقصد تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا اور منصفانہ حل پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صدرِ صدارتی قیادت کونسل کی یہ پیش رفت اس امر کی عکاس ہے کہ وہ قومی مسائل کے حل کے لیے مکالمے کو بنیادی ذریعہ سمجھتے ہیں۔ قطر نے اس کانفرنس کی میزبانی پر سعودی عرب کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام یمن میں امن و استحکام کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت کا مظہر ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریاض میں منعقد ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں جنوبی یمن کے تمام سیاسی و سماجی دھڑوں کی تعمیری شرکت نہایت اہم ہے، تاکہ فیصلے یمنی عوام کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کیے جا سکیں۔ قطر نے واضح کیا کہ قومی مکالمہ کانفرنس کے طے شدہ نتائج کو ایک متفقہ فریم ورک کے طور پر اپنایا جانا چاہیے، کیونکہ یہی ایک جامع اور قابلِ قبول طریقہ ہے جو تمام یمنی عوام کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے اور یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو محفوظ رکھتا ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی فریق نے باہمی مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے کے بغیر یکطرفہ اعلانات یا اقدامات کیے تو اس کے نتیجے میں انتشار اور بدامنی پیدا ہو سکتی ہے، جو یمنی عوام کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ پائیدار سیاسی حل کی کوششوں کو بھی کمزور کر دے گی۔
بیان کے اختتام پر قطر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ یمن کے بحران کے پرامن حل کے لیے تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا، تاکہ مکالمے اور سیاسی ذرائع کے ذریعے یمن اور پورے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم، چھ افراد ہلاک