وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی پنجاب اسمبلی آمد کے دوران پیش آنے والے ہنگامے کی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واقعے کی تفصیلی وجوہات، موجودہ شواہد اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس رپورٹ میں واقعے سے متعلق ویڈیوز، اسمبلی ملازمین کے بیانات اور عینی شاہدین کی گواہیاں شامل کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں اس واقعے کو سیکیورٹی پروٹوکولز کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مجرموں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی تجویز دی گئی ہے۔
پنجاب اسمبلی کے ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ آئی جی پنجاب کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ ملوث افراد کے خلاف باقاعدہ کارروائی شروع کی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ہمراہ آنے والے افراد میں کچھ غیر متعلقہ اور سزا یافتہ افراد بھی شامل تھے، جن کا اسمبلی میں داخلہ قوانین کے خلاف تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کی آمد پر اسمبلی سارجنٹ نے روٹین سیکیورٹی چیک کے دوران شناخت طلب کی تو ہمراہی افراد نے مزاحمت کی اور سکیورٹی اہلکاروں کو دھکے دیے، جس کے بعد معاملہ ہاتھ سے نکل گیا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے تجویز دی ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کے تدارک کے لیے سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت اور مؤثر بنایا جائے اور اسمبلی کے وقار و تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
دیکھیں: وینزویلا کے وزیر داخلہ کی عوام کو قیادت پر اعتماد اور جارح قوتوں سے تعاون نہ کرنے کی اپیل