صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر مدورو کی گرفتاری کے لیے کیے گئے حملے کو ایک “شاندار کارروائی” قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔
انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ یہ حملہ کاراکاس کے قلب میں واقع ایک انتہائی محفوظ فوجی قلعے میں کیا گیا، جو کہ ایسا تھا جیسا لوگوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد آمر مادورو کو انصاف کے کٹہرے میں لانا تھا۔
ٹرمپ نے اس آپریشن کو امریکی تاریخ میں امریکی فوجی طاقت اور مہارت کا ایک حیران کن، مؤثر اور طاقتور مظاہرہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا”دنیا کی کوئی بھی قوم وہ حاصل نہیں کر سکتی تھی جو امریکہ نے حاصل کیا، یا سچی بات تو یہ ہے کہ محض تھوڑے سے وقت میں وینزویلا کی تمام فوجی صلاحیتوں کو بے بس کر دیا گیا۔”
انہوں نے مزید کہا “ہمارا ایک بھی فوجی ہلاک نہیں ہوا، اور امریکہ کا ایک بھی ساز و سامان ضائع نہیں ہوا۔ اس لڑائی میں ہمارے بہت سے ہیلی کاپٹر، بہت سے طیارے اور بہت سے لوگ شامل تھے۔”
مزید پڑھیں: https://htnurdu.com/venezuela-us-aggression/
امریکہ ایک اور حملے کیلئے تیار ہے
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ وینزویلا میں دوسرے اور کہیں بڑے حملے کے لیے تیار ہے، لیکن پہلے آپریشن کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے شاید اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا “ہمارا خیال تھا کہ دوسری لہر (حملے) کی ضرورت ہوگی لیکن شاید اب نہیں ہے۔ پہلا حملہ اتنا کامیاب رہا کہ ہمیں غالباً دوسرا حملہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک اقتدار کی “محفوظ منتقلی” نہیں ہو جاتی، امریکہ وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا۔ “ہم اس ملک کو اس وقت تک چلائیں گے جب تک ہم ایک محفوظ، مناسب اور منصفانہ منتقلی نہ کر لیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی اور شخص اقتدار میں آئے اور وہی صورتحال دوبارہ پیدا ہو جائے جو ہم گزشتہ کئی سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔”
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکی عدالتوں کے پاس مدورو کے جرائم کے “ناقابلِ تردید ثبوت” موجود ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ ہولناک اور ہوش ربا دونوں ہیں۔”
مادورو پر الزامات
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مادورو اقتدار میں رہے اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے خلاف تشدد، دہشت گردی اور تخریب کاری کی مسلسل مہم چلائی، جس سے نہ صرف ہمارے لوگ بلکہ پورے خطے کے استحکام کو خطرہ لاحق رہا۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا میں امریکی مداخلت سے امریکی تیل کمپنیوں کے لیے نئے دروازے کھلیں گے، جو جلد ہی ملک میں توانائی کے بڑے منصوبوں میں حصہ لیں گی۔انہوں نے دعویٰ کیا “جیسا کہ سب جانتے ہیں، وینزویلا میں تیل کا کاروبار ایک طویل عرصے سے مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ وہ اپنی اصل صلاحیت کے مقابلے میں تقریباً کچھ بھی پمپ نہیں کر رہے تھے۔ ہم اپنی بہت بڑی امریکی تیل کمپنیوں کو وہاں بھیجیں گے، جو دنیا میں سب سے بڑی ہیںتاکہ وہ اربوں ڈالر خرچ کریں، تباہ حال انفراسٹرکچر کو ٹھیک کریں، اور ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں۔”
ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا تیزی سے ہمارے خطے میں غیر ملکی دشمنوں کی پناہ گاہ بن رہا تھا اور خطرناک جارحانہ ہتھیار حاصل کر رہا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے کچھ ہتھیار گزشتہ رات امریکی افواج کے خلاف استعمال کیے گئے۔
انہوں نے کہا، “دیگر حکومتوں نے مغربی نصف کرے میں بڑھتے ہوئے ان سیکورٹی خطرات کو نظر انداز کیا یا حتیٰ کہ ان میں حصہ ڈالا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت، ہم اپنے خطے میں امریکی طاقت کا بہت زوردار طریقے سے اعادہ کر رہے ہیں۔”
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی آپریشن “ہر اس شخص کے لیے ایک وارننگ ہونا چاہیے جو امریکی خودمختاری کو خطرے میں ڈالے گا یا امریکی جانوں کو خطرے میں ڈالے گا”۔
انہوں نے مزید کہا، “امریکی بیڑہ اپنی پوزیشن پر مستعد ہے، اور امریکہ کے پاس تمام فوجی آپشنز اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک کہ امریکی مطالبات مکمل طور پر تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ وینزویلا کی تمام سیاسی اور فوجی شخصیات کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جو مادورو کے ساتھ ہوا وہ ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔اور اگر وہ اپنی عوام کے ساتھ منصفانہ رویہ نہیں رکھیں گے تو ایسا ضرور ہوگا۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکی افواج چھاپے کے دوران مدورو کو ہلاک کر سکتی تھیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ “ایسا ہو سکتا تھا. وہ ایک محفوظ جگہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا”۔
ٹرمپ نے بتایا، “وہاں بہت زیادہ فائرنگ ہو رہی تھی. وہ ایک محفوظ جگہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا، جو کہ محفوظ نہیں تھی کیونکہ ہم اس دروازے کو اڑا دیتے۔ وہ دروازے تک پہنچ گیا تھا لیکن اسے بند کرنے میں ناکام رہا۔”
وینزویلا کی سپریم کورٹ کا فیصلہ
وینزویلا کی سپریم کورٹ نے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو ملک کا عبوری صدر مقرر کر دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ڈیلسی روڈریگز عبوری حیثیت میں صدر کے تمام اختیارات، فرائض اور ذمہ داریاں سنبھالیں گی تاکہ ریاستی امور میں تسلسل اور قومی دفاع کو یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مادورو کو تاحال مستقل طور پر عہدے سے معزول قرار نہیں دیا گیا، کیونکہ آئینی طور پر ایسا فیصلہ ہونے کی صورت میں 30 دن کے اندر انتخابات کرانا لازم ہوتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوج نے دارالحکومت کراکس میں کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا۔
عالمی ردعمل
حملے کے بعد چین کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے کسی بھی دوسرے ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے اور عالمی قانون و اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے احترام پر زور دیا ہے، خاص طور پر لاطینی امریکا اور کیریبین میں امن و سلامتی کے بحرانوں کے حوالے سے۔
جرمن چانسلر فریڈرِک مرز کے حالیہ دورۂ جرمنی میں چینی حکام سے ملاقاتوں کا ذکر بھی سامنے آیا، جس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے اور عالمی چیلنجوں بشمول معاشی ترقی اور عالمی استحکام کے حل کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ جرمن چانسلر نے چین کے ساتھ مفاہمت، باہمی احترام اور مفادِ عامہ کے اصولوں پر مبنی تعلقات کو اہم قرار دیا۔
روسی وزارتِ خارجہ نے اپنے سرکاری اکاؤنٹس پر سفارتی بیانات جاری کیے، جن میں عالمی سکیورٹی اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، اور عالمی سطح پر طاقتوں کے مابین کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ روس کی پالیسی عام طور پر سفارتی چینلز اور اقوامِ متحدہ جیسے فورمز کے ذریعے مل جل کر حل تلاش کرنے پر مرکوز ہے۔
کیوبا نے بھی اپنے سرکاری اکاؤنٹس کے ذریعے بین الاقوامی تعلقات میں حکمتِ عملی اور غیر مداخلت کے اصولوں پر زور دیا ہے، جبکہ میکسیکو نے عالمی سطح پر تعاون، امن اور ترقی کے ایجنڈوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ان بیانات میں عالمی مسائل کا پرامن اور مشترکہ حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا ہے، جس میں معاشی عدم استحکام، انسانی بحران اور علاقائی تنازعات کے حل شامل ہیں۔ انٹرنیشنل تعلقات میں شفافیت اور مکالمہ ہر ملک کی خارجہ پالیسی ترجیحات کا حصہ ہے۔
ارجنٹائن کی وزارتِ خارجہ نے بھی بین الاقوامی سطح پر امن، معاشی مساوات اور عوامی تعاون کے فروغ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا، جس میں خطے اور دنیا بھر میں استحکام کے تقاضوں کو سامنے رکھا گیا ہے۔
یہ بیانات عالمی سفارتی ماحولیاتی نظام میں تعاون، باہمی احترام، اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے عالمی رہنماؤں کے واضح عزم کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ ایک دوسرے کے ساتھ پرامن گفتوشنید اور مل جل کر عالمی چیلنجوں کے حل تلاش کرنے کی کوششوں کو بھی تقویت دیتے ہیں۔
دیکھیں: وینزویلا کے وزیر داخلہ کی عوام کو قیادت پر اعتماد اور جارح قوتوں سے تعاون نہ کرنے کی اپیل