طالبان کے قندھاری رجیم کے شمالی افغانستان پر تسلط، نسلی تعصب، وسائل کی لوٹ مار، اختیارات پر تسلط اور غیر پشتون شہریوں کے خلاف نفرت انگیز پالیسیوں کے سبب شمالی افغانستان بغاوت کے دھانے پر پہنچ گیا ہے۔ شریعت اور شورائیت کے حسین نعرے اور ملا عمر کے غیر متعصبانہ دور کو دیکھ کر طالبان سے تعاون کرنے والے مقامی گروپ بھی مایوس ہو کر بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ اس کا تازہ ترین مظاہرہ تخار میں دیکھا گیا جب سونے کی کان پر تنازعہ تصادم کی شکل اختیار کرگیا۔یہ بغاوت کی لہر، جو شمالی افغانستان کے دل میں اٹھ رہی ہے، محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک منظم ردعمل ہے جو نسلی اور معاشی استحصال کی بنیاد پر کھڑی ہوئی ہے۔ قندھار اور ہلمند سے تعلق رکھنے والے پشتون طالبان کی جانب سے سونے کی کانوں پر قبضے کی کوششیں، جو مقامی غیر پشتون آبادی کے حقوق کو پامال کر رہی ہیں، اب مسلح تصادم کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔
تخار صوبے میں یہ تنازعہ جمعہ کے روز اس وقت عروج پر پہنچا جب ضلع چاہ آب کے سمتی علاقے میں مقامی رہائشیوں اور طالبان کے پشتون دھڑے کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ طالبان میں موجود ہمارے ذرائع کے مطابق، ان جھڑپوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب نماز جمعہ کے بعد مقامی افراد، جن میں طالبان کے نان پشتون مقامی اہلکار بھی شامل تھے، سونے کی ان کانوں پر قبضے کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ اس موقع پر طالبان کے پشتون گروپ، جو قبضے کے لیے آیا ہوا تھا، نے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کردی۔ جوابی طور پر مقامی آبادی مسلح ہو کر گھروں سے نکل آئی، انہوں نے مشینری پر قبضہ کرلیا اور پشتون گروپ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ تاہم، جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات طالبان کے قندھاری گروپ نے دوبارہ حملہ کیا اور کان کا کنٹرول سنبھال لیا۔
یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کس طرح قندھاری طالبان کی وسائل پر قبضے کی پالیسیاں مقامی سطح پر مزاحمت کو جنم دے رہی ہیں، جو نہ صرف اقتصادی بلکہ نسلی تفریق کی بنیاد پر بھی استوار ہیں۔یہ تخار کا واقعہ کوئی الگ تھلگ سانحہ نہیں بلکہ ایک تسلسل کا حصہ ہے جو 12 اکتوبر2025 سے جاری ہے۔ 12اکتوبر بدخشاں سے شروع ہونے والی یہ لڑائی اب تخار اور فراہ تک پھیل چکی ہے، جو طالبان رجیم کے اندرونی تضادات اور نسلی تعصب کی عکاسی کرتی ہے۔ سونے کی کانوں پر قبضے کے سلسلہ کا پہلا تصادم 12 اور 13 اکتوبر کو بدخشاں کے ضلع یفتل میں واقع “یالور” گاؤں میں ہوا،جب صوبہ ہلمند کے ایک طالبان دھڑے نے، جو بدخشاں کے طالبان گورنر اور صوبے کے چیف جسٹس کاحمایت یافتہ تھا، اس سونے کی کان پر قبضہ کرلیا۔ مقامی طالبان گروہ کا دعویٰ تھا کہ یہ کان ضلع کے عوام کی ملکیت ہے۔ مقامی جنگجو، جو زیادہ تر شمالی فارسی زبان بولنے والے طالبان تھے، کم از کم ایک ماہ سے اس کان پر دوبارہ کنٹرول کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم، قندھار دھڑے سے تعلق رکھنے والے پشتون گورنر اور چیف جسٹس نے مقامی دعووں کو نظرانداز کرتے ہوئے کان ہلمند کے طالبان کے حوالے کردی۔ ذرائع کے مطابق، لڑائی اتوار 12 اکتوبر کی شام شروع ہوئی اور پیر تک جاری رہی۔ پہلے مرحلے میں 10 طالبان ہلاک ہوئے، جن میں 8 ہلمند کے اور 2 بدخشاں کے گروپ سے تھے، جبکہ دونوں جانب سے 23 افراد زخمی ہوئے۔ پیر کے روز مزید 4 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ضلعی قاضی “حلیم قندھاری” اور ٹریفک پولیس کا سربراہ “شاہ زمان خان” شامل تھے۔ بدخشاں کے مقامی طالبان کمانڈر “محمد سلیم اللہ شریفی” اور ہلمندی طالبان کمانڈر “ملا عبدالرؤف” بھی ہلاک ہوگئے۔ بدخشاں کے طالبان گورنر مولوی محمد ایوب خالد (جسے بعد میں تبدیل کرکے مولوی اسماعیل کو نیا گورنر لگایا گیا) نے قندھار سے اضافی فوجی مدد طلب کی۔
اس جھڑپ کے بعد اسی یفتل گائوں سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر امین اللہ وحید نے قندھاری رجیم سے بغاوت کا اعلان کیا اور مقامی سطح پر غیر پشتون طالبان اور غیر طالبان جنگجوؤں کو منظم کرنا شروع کردیا۔ اعلان کیا کہ کسی پشتون کو مقامی وسائل پر قبضہ نہیں کرنے دیا جائے گا ۔اس پرگورنر نے انتباہ جاری کیا اور دو ورز بعد ڈیوٹی پر واپس نہ جانے اور احتجاج میں شریک طالبان جنگجووں کو برطرف کردیا ۔ اس کے برعکس، مولوی امین اللہ وحید نے یالور اور قریبی دیہات میں عوامی اعلان کیا کہ “پشتونوں نے ہمیں غلام بنا لیا ہے” اور مقامی نوجوانوں کو آزادی کے لیے ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی۔
یہ جھڑپیں 24 اکتوبر کو مزید شدت اختیار کرگئیں جب بدخشاں کے ہی ایک دوسرے ضلع شہر بزرگ میں “پایان مور” گاؤں میں سونے کی کان پر دو طالبان گروپوں کے درمیان تصادم ہوگیا۔ سرکاری فورسز نے زبردستی کان پر قبضہ کیا اور اسے پشتون طالبان گروپ کے حوالے کردیا۔ بعدازاں 27 اکتوبر کو مقامی غیر پشتون طالبان نے دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کی، جو ناکام رہی۔ ان جھڑپوں میں مقامی طالبان گروپ کی قیادت شعبہ معدنیات کا برطرف سربراہ عبدالرحمن عمار کررہا تھا، جو ایک مقامی تاجک رہنما ہے اور مقامی تاجک اور ازبک طالبان کی حمایت حاصل ہے۔ اسے ستمبر 2025 میں اس لیے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا کہ اس نے سابق گورنر کے حکم پر مقامی ٹھیکیداروں سے سونے کی کانیں قبضے میں لینے اور انہیں قندھاری طالبان گروپوں کو دینے سے انکار کیا تھا۔ ان کی جگہ شفیق اللہ حافظی کو قندھار سے لا کر معدنیات کی سربراہی سونپی گئی، جس نے آتے ہی بدخشاں کی تمام سونے کی کانیں قندھار اور ہلمند کے پشتون طالبان گروپوں کے حوالے کردیں اور پھر طالبان سرحدی فورسز کے ذریعے زبردستی ان کانوں کا کنٹرول پشتون گروپوں کو منتقل کروادیا۔ اس جھڑپ میں سرحدی فورسز کا طالبان کمانڈر خیر اللہ زاہد ہلاک ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق، ضلع شہر بزرگ کے ایک گاؤں “اوویز” میں کم از کم 9 سونے کی کانیں ہیں جن کی لیز ہلمند کے طالبان کمانڈر ملا بدر زمان قندھاری کو غیر قانونی طور پر دی گئی ہیں۔ دریں اثنا، اسی گاؤں کا غیر پشتون شمالی طالبان کمانڈر قاری عمر حسیب اپنے مقامی حمایتی جنگجوؤں کو پشتون طالبان کے خلاف منظم کررہا ہے تاکہ کان پر مکمل کنٹرول دوبارہ حاصل کیا جاسکے۔ بدخشاں میں یہ جھڑپیں 28 اکتوبر تک جاری رہیں، جہاں ضلع شہر بزرگ اور یفتل میں مقامی نوجوان طالبان کے برطرف کمانڈر عبدالرحمٰن عمار کی قیادت میں منظم ہوکر طالبان رجیم سے بغاوت کا اعلان کرچکے ہیں۔ بدخشاں میں تازہ صورتحال یہ ہے کہ قاری محبوب اللہ کشاف، جو بدخشاں میں گورنر کے سیکریٹری شفیق کا قریبی ساتھی اور ضلعی سربراہ مولوی امان الدین کا منظور نظر ہے، نے “داونگ” کے علاقے میں مقامی زمین مالکان سے زبردستی سونے کی 6 کانیں چھین لی ہیں، جبکہ اسی ضلع میں 10 سے زائد دیگر کانوں پر پہلے سے قبضہ کیا ہوا ہے۔ بدخشاں کے ہی ضلع جرم کے طالبان ضلعی گورنر مولوی غیاث، جو ضلع یفتل کے رہائشی ہیں، نے بھی کئی منصوبوں پر زبردستی قبضہ کررکھا ہے ۔ داونگ کے علاقے اور آویز پشکر خطے کے مکینوں نے بارہا طالبان کی وزارت معادن سے اجازت نامے حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر حکام نے ان کی درخواستیں مسترد کردیں۔ بدخشاں کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نے صوبے بھر میں سونے کی کانوں سے غیر قانونی نکاسی اور لوٹ مار میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔
29 اکتوبر کو تاجک کمانڈر “مولانا عبدالرحمن عمار” نے طالبان فورسز کو “غاصب” قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف “جہاد” کا اعلان کیا اور “شمالی افغانستان کو آزاد کرانے” کا عزم کیا۔ مولانا عبدالرحمن عمار، جو ایک تاجک نسل سے تعلق رکھتے ہیں، نے امریکہ کے خلاف جنگ کے دوران طالبان کے ساتھ لڑائی کی تھی اور بدخشاں اور بلخ صوبوں میں موجودہ طالبان فوجی سربراہ قاری فصیح الدین کے نائب کے طور پر کام کیا۔ اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے دوران، عمار قاری فصیح کے نائب کے طور پر اس فورس کا حصہ تھے جس نے کابل پر قبضہ کیا۔ بعد میں انہیں بلخ صوبے کے دارالحکومت مزار شریف میں پولیس چیف مقرر کیا گیا، لیکن 2024 میں غیر پشتون طالبان ارکان کو مسلح کرنے کی طالبان مہم کے دوران انہیں بدخشاں میں معدن کے ڈائریکٹر کے طور پر منتقل کیا گیا۔ ستمبر 2025 کے اوائل میں، عمار اپنے عہدے سے ہٹا دیے گئے کیونکہ انہوں نے مقامی سونے کی کانیں قندھار اور ہلمند کے طالبان گروپوں کو دینے سے انکار کیا۔ 27 اور 28 اکتوبر کو شہر بزرگ علاقے میں کانوں کے کنٹرول پر جھڑپوں کے بعد، مولانا عبدالرحمن عمار نے 29 اکتوبر کو فجر کی نماز کے بعد ایک مقامی مسجد میں اعلان کیا کہ وہ طالبان حکومت کے خلاف بغاوت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا: “طالبان غاصب، نسل پرست اور غیر پشتونوں کے دشمن ہیں۔ وہ ہمارے وسائل لوٹ رہے ہیں۔ شمال کو آزاد کرانے کی جدوجہد جاری رہے گی۔” اعلان کے بعد، مولانا عبدالرحمن عمار شہر بزرگ کے پہاڑی علاقے کی طرف منتقل ہوگئے۔ اس وقت اس کے ساتھ 100 سے 150 مسلح افراد تھے ، جن کی تعداد اب بڑھ چکی ہے ، ایک سورس کے مطابق کل مسلح حامی 500 سے زائد ہیں۔ انہوں نے شہری علاقوں میں اپنے پیروکاروں کو مزید احکامات کے انتظار کی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق، مولانا عمار بدخشاں میں ایک معروف مذہبی عالم ہیں اور ان کے ہزاروں پیروکار ہیں۔ مولانا عمار نے اپنا قریبی ساتھی، علیم الدین نصرت، اوویز گاؤں کے قاری عمر حسیب کے ذریعہ سے دیگر غیر پشتون کمانڈرز کو متحد ہونے اور مل کر لڑنے کی دعوت دی ہے ۔دوسری جانب، صوبہ فراہ میں طالبان گورنر سے وابستہ افراد نے بھی کئی سونے کی کانوں پر قبضے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے یہاں بسم اللہ مستری اور محمود نامی گورنر کے کارندے لوٹ مار اور قبضے میں پیش پیش ہیں۔ فراہ کے طالبان گورنرسے وابستہ جنگجومقامی لوگوں کے ایکسکیویٹر ضبط کرتے ہیں، کان کنی کی ورکشاپس پر قبضہ کرتے ہیں اور رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ایک بڑا نیٹ ورک ہے ، جو سونے کی کانوں اور دیگر قدرتی وسائل کی لوٹ مار کررہاہے ۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قندھار میں طاقت رکھنے والی قندھاری گروپ کی قیادت شمال میں بڑھتی ہوئی اس بغاوت کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کررہی بلکہ اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کررہی ہے، حالانکہ اکتوبر میں صرف 15 دن میں 2 اضلاع میں سونے کی کانوں پر اندرونی جھڑپوں میں مقامی نوجوانوں اور طالبان فورسز کے 25 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اور یہ لڑائی وہاں سے تخار پہنچ چکی ہے، اور چار لوگوں کو یہاں بھی نگل گئی ہے ۔ اگر کوئی حل نہ نکالا گیا، جو کہ بہت کم ممکن لگتا ہے، تو یہ لڑائی مزید پھیل سکتی ہے۔ دکھائی یہی دے
رہا ہے کہ قندھاری طالبان کی وسائل پر قبضے کی جنگ طالبان رجیم کے خلاف منظم بغاوت کی بنیاد بن سکتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف طالبان کی داخلی اتحاد کو کمزور کررہی ہے بلکہ افغانستان کی مجموعی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے، جہاں نسلی تفریق اور معاشی استحصال کی پالیسیاں ایک بڑی خانہ جنگی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ بغاوت کا پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہے کیونکہ طالبان اسے زبردستی دبا رہے ہیں۔ تقریباً تمام مقامی تاجک اور ازبک طالبان ارکان یا تو بغاوت میں شامل ہورہے ہیں یا ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں۔ یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ طالبان رجیم کی نسلی بنیاد پر مبنی پالیسیاں، جو غیر پشتون گروہوں کو پسماندگی اور استحصال کی طرف دھکیل رہی ہیں، اب ان کے اپنے وجود کو چیلنج کررہی ہیں۔اگر کسی ملک نے باقاعدہ اس بغاوت کے سر پر دست شفقت رکھ دیا تو شمال طالبان کے ہاتھ سے نکلتے دیر نہیں لگے گی ۔
دیکھیں: وینزویلا کے وزیر داخلہ کی عوام کو قیادت پر اعتماد اور جارح قوتوں سے تعاون نہ کرنے کی اپیل