"> پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خودارادیت منا رہے ہیں - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خودارادیت منا رہے ہیں

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کی بھرپور اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں،مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کا واحد راستہ ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم حق خودارادیت منا رہے ہیں

غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔

January 5, 2026

 پانچ جنوری 1949ء کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان اور بھارت نے کشمیریوں کیلئے حق خود ارادیت یعنی رائے شماری کی قرارداد منظور کی تھی جس کے تناظر میں کشمیری ہر سال اس دن کو بڑھ چڑھ کر مناتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی قرار داد کے باوجود بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کر کے انہیں بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہوا ہے، جس وجہ سے کشمیری ہر سال 5 جنوری کو تجدید عہد کے طور پر مناتے ہیں، ہرسال اس دن کو منانے کا مقصد عالمی برادری کو یاد دلانا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں اپنی ذمہ داری کو نظر انداذ نہیں کرسکتے۔

ترجمان وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کے مطابق بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو کھیل کھیل رہا ہے اس سے پوری دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیری عوام کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنا فیصلہ کرسکیں، بھارت ان قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے۔

رہنما کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ یوم حق خود ارادیت کے موقع پر آزاد جموں و کشمیر بھر میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں، اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن دفتر مظفرآباد میں یادداشت بھی پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیری عوام کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنا فیصلہ کر سکیں، ضرورت اس امر کی ہے اقوام عالم کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ اقوام متحدہ کا ادارہ کشمیریوں سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کرے۔

صدر مملکت کا خصوصی پیغام

صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر میں زمینی صورتحال بدستور نہایت تشویشناک ہے، پاکستان بھارت کے غیر قانونی طور پر زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام کی مسلسل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، ہم ان کے وقار، انصاف اور اپنی مرضی کے مستقبل کے حصول کی منصفانہ اور پرامن جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کی واحد راہ ہے ،شمیری بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان آپ کے جائز حق کے لیے اپنی غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور ہر دستیاب عالمی فورم پر آپ کی آواز بنتا رہے گا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا پیغام

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے جاری جدوجہد کی بھرپور اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں،مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کا واحد راستہ ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار یوم حق خود ارادیت  کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج جب ہم ‘‘یومِ حقِ خودارادیت’’ منا رہے ہیں تو ہم غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیرکے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے جاری جائز جدوجہد کی بھرپور اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

پانچ جنوری ہمیں اس تاریخی عہد کی یاد دلاتا ہے جو عالمی برادری نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم اور یقینی بنانے کے لیے کیا تھا۔ وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ 5 جنوری 1949ء کو اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی جس میں واضح طور پر یہ طے کیا گیا کہ ریاستِ جموں و کشمیر کے حتمی مستقبل کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت کے جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضے کے باعث یہ عہد آج تک پورا نہیں ہو سکا اور مذکورہ قرارداد پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ بھارت تمام تر جبر و تشدد اور ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کے عزم کو پست اور ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبا نہیں سکا۔

غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے بھارتی قابض افواج کے مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ 5 اگست 2019ء کے بعد بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات  جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی اور سیاسی ڈھانچے کو بدلنے کی منظم مہم کا حصہ ہیں، نے کشمیری عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ بھارت نے کشمیری عوام کی حقیقی قیادت کو خاموش کرانے اور میڈیا کو دبانے کی مسلسل کوششیں کی ہیں۔ پاکستان کے عوام بھارتی مظالم کے سامنے کشمیری عوام کی بے مثال جرات، ثابت قدمی اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں۔

دیکھیں: بھارتی وزیرِ خارجہ کے الزامات مسترد، دہشت گردی اور کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *