ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ گزشتہ مئی میں ہونے والے تنازع کے دوران جنگ بندی کے لیے بھارت نے ایک تیسرے ملک سے مداخلت کروائی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیوں اور خطے میں عدمِ استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کے حقائق کو چھپا نہیں سکتا۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت نے بیرون ملک ماورائے عدالت قتل کیے، ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اور پاکستان کے خلاف من گھڑت دہشت گردی کا بیانیہ تشکیل دیا۔” انہوں نے کلبھوشن جیسے افراد کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروانے اور مطلوب مجرموں کو بھارت میں پناہ دینے کی مثال دی۔
کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر تشویش
اندرابی نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی ہراسانی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کشمیری رہنماؤں شبیر شاہ، آسیہ اندرابی، یاسین ملک اور صحافی عرفان مجید سمیت ہزاروں کشمیریوں کی طویل مدتی قید اور جعلی مقدمات کی طرف توجہ دلائی۔
پاک سعودی دفاعی معاہدہ
سعودی عرب سے دفاعی تعاون کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط اور کثیر الجہتی ہیں، لیکن کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم، قرض یا اضافی فوجی دستے بھیجنے کے بارے میں حتمی معاہدے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے اس طرح کی اطلاعات کو قیاس آرائی قرار دیا۔
ایران کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف
ایران سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف کسی بیرونی جارحیت یا دھمکی کی مخالفت کرتا ہے اور ماضی میں بھی ایران پر پابندیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی اندرونی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے اور پاکستان کسی بھی پڑوسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔
دیکھیں: بھارتی فوج کی ضلع کٹھوعہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی