وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوئٹہ میں اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی۔ انہوں نے ہمسایہ ممالک کی جانب سے خوارج کو ملنے والی حمایت کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل دہشتگردی کے خلاف افواج کی قیادت کر رہے ہیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود بلوچستان کی صوبائی کابینہ عوام کی خدمت میں مصروفِ عمل ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ دہشتگردی نے خیبرپختونخوا کی طرح بلوچستان میں بھی سنگین چیلنجز پیدا کیے ہیں، لیکن سکیورٹی اداروں اور حکومتی اقدامات کی بدولت صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس حکمت عملی کے تحت اب تک 784 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے صوبے میں ترقی، استحکام اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر مسلسل تعاون کا بھی یقین دلایا۔
دورے کی تفصیلات
وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچے تھے، جہاں گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے گورنر ہاؤس پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ گورنر ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی، وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، علیم خان، رانا ثناء اللہ اور دیگر صوبائی سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ان کی پیش رفت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دیکھیں: طالبان کی جانب سے عوامی مظاہروں پر تشدد کے مبینہ واقعات؛ اے ایف ایف کی شدید مذمت