ایران میں عوامی بے چینی اور نظام کے خلاف غصہ اس حد تک پھیل چکا ہے کہ سابق شاہِ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی، کسی واضح متبادل قیادت کی عدم موجودگی میں، ایک علامتی اور وقتی اتحاد کی شکل اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگرچہ خود کئی ایرانی شہری رضا پہلوی میں ذاتی دلچسپی نہیں رکھتے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام کا خاتمہ اب کسی ایک شخصیت سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی معاشرہ ایک طویل اور گہرے بحران کا شکار ہے، جہاں سیاسی جمود، معاشی بدحالی اور حکومتی ناکامیوں نے عوامی صبر کو جواب دے دیا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے بھی جولائی میں کابینہ اجلاس کے دوران اعتراف کیا تھا کہ ملک ابتدا ہی سے مسلسل بحرانوں کی زد میں ہے اور حالات میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ ان کے بقول ایران اس وقت ایک مشکل اور خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔
ایران کی معاشی مشکلات حالیہ مہینوں میں مزید شدت اختیار کر چکی ہیں، جن میں بدانتظامی، بے قابو صنعتی پھیلاؤ اور زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال کے باعث پیدا ہونے والا پانی کا بحران نمایاں ہے۔ توانائی سے مالا مال ملک ہونے کے باوجود بجلی کی طے شدہ لوڈشیڈنگ ایرانی عوام کی روزمرہ زندگی کا معمول بن چکی ہے، جو حکومتی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بڑھتے ہوئے معاشی اور ماحولیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ حکومتی اہلکار بھی اب اپنی حدود کا کھلے عام اعتراف کر رہے ہیں، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاستی نظام شدید دباؤ میں ہے۔ عوامی غصہ، قیادت پر عدم اعتماد اور بنیادی سہولیات کی کمی نے ایران کو ایک ایسے بحران سے دوچار کر دیا ہے جسے کئی ماہرین اسلامی جمہوریہ کے لیے وجودی خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو ایران میں سیاسی و سماجی عدم استحکام مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ملک کے اندر بلکہ پورے خطے پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
دیکھیں: تہران میں ہنگاموں کے دوران موساد سے منسلک کارندہ گرفتار؛ ایرانی سکیورٹی حکام کی تصدیق