"> افغان مہاجرین کو روزگار کے شدید مسائل کا سامنا: اقوامِ متحدہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان مہاجرین کو روزگار کے شدید مسائل کا سامنا: اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان واپس آنے والے صرف 11 فیصد مہاجرین روزگار حاصل کر پائے ہیں، جبکہ 89 فیصد بے روزگار یا کم آمدنی والے کاموں پر مجبور ہیں
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان واپس آنے والے صرف 11 فیصد مہاجرین روزگار حاصل کر پائے ہیں، جبکہ 89 فیصد بے روزگار یا کم آمدنی والے کاموں پر مجبور ہیں

January 12, 2026

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ نے افغانستان واپس آنے والوں کے لیے روزگار کے بحران پر خطرناک انتباہ جاری کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 11 فیصد واپس آنے والے افغان شہری ہی باقاعدہ ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں، جبکہ 89 فیصد یا تو بے روزگار ہیں یا غیر مستقل اور کم آمدنی والے کاموں پر مجبور ہیں۔

رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ “محض افغانستان واپس آنا کامیاب دوبارہ انضمام کی ضمانت نہیں ہے”۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک ہزاروں افغان شہری پاکستان، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک سے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔

رپورٹ میں اس بحران کی چار بنیادی وجوہات بیان کی گئی ہیں: پہلی وجہ طالبان کے قیامِ حکومت کے بعد معیشت کی شدید بدحالی ہے جس میں بین الاقوامی امداد کا معطلی ہونااور سرمایہ کاری کا جمود شامل ہے۔ دوسری بڑی وجہ خواتین پر تعلیمی اور کاروباری پابندیاں ہیں، جس نے خاندانی آمدنی کے ذرائع کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تیسری وجہ خشک سالی اور آبپاشی کے نظام کی کمی ہے، جس نے دیہی علاقوں میں روایتی روزگار کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔ چوتھی وجہ طویل عرصے تک مہاجرت کی زندگی گزارنے والے افراد میں موجودہ بازار کے مطابق ہنر یا تعلیم کا فقدان ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “وطن واپسی کے ساتھ ساتھ معاشی خودمختاری، تحفظ اور بنیادی خدمات تک رسائی ضروری ہے”۔ رپورٹ میں بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افغانستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور واپس آنے والوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے فوری اقدامات کرے۔ خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین سربراہ خاندانوں کے لیے ہنر مندی کی تربیت اور چھوٹے کاروباروں کے قیام کے پروگراموں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، موجودہ صورت حال اگر جاری رہی تو یہ نہ صرف ایک انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے بلکہ افغانستان میں طویل مدتی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ افغانستان میں موجودہ حکومت کی طرف سے اب تک واپس آنے والوں کے لیے کوئی جامع روزگار کی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے، جس سے بحران کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہروں میں اضافہ، میڈیا اور انٹرنیٹ بندش

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *