ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسندی کی فکری جڑوں کو ختم کیے بغیر محض عسکری کاروائیاں ناگزیر نتائج حاصل نہیں کر سکتیں اور تنظیمیں دوبارہ ابھر سکتی ہیں۔

June 2, 2026

بھارت کی جانب سے کشن گنگا پروجیکٹ پر ماحولیاتی بہاؤ کی خلاف ورزی اور ڈیٹا کی رازداری سندھ طاس معاہدے کو کمزور اور پاکستان کی آبی سیکیورٹی کو متاثر کر رہی ہے۔

June 2, 2026

گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا سے کارکنان لانے اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کے الزامات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

June 2, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے خلاف تحریری ضمانت دینے سے انکاری ہیں، اس لیے ان پر اعتماد خطرناک ہے۔

June 2, 2026

بنوں کے علاقے بکا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے تفتانِ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر شاہد عرف کمانڈو کا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے گہرا تعلق اور ماضی کی وابستگی کے دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔

June 2, 2026

سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں لبنان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا۔

June 2, 2026

افغان مہاجرین کو روزگار کے شدید مسائل کا سامنا: اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان واپس آنے والے صرف 11 فیصد مہاجرین روزگار حاصل کر پائے ہیں، جبکہ 89 فیصد بے روزگار یا کم آمدنی والے کاموں پر مجبور ہیں
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان واپس آنے والے صرف 11 فیصد مہاجرین روزگار حاصل کر پائے ہیں، جبکہ 89 فیصد بے روزگار یا کم آمدنی والے کاموں پر مجبور ہیں

January 12, 2026

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ نے افغانستان واپس آنے والوں کے لیے روزگار کے بحران پر خطرناک انتباہ جاری کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 11 فیصد واپس آنے والے افغان شہری ہی باقاعدہ ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں، جبکہ 89 فیصد یا تو بے روزگار ہیں یا غیر مستقل اور کم آمدنی والے کاموں پر مجبور ہیں۔

رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ “محض افغانستان واپس آنا کامیاب دوبارہ انضمام کی ضمانت نہیں ہے”۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے اب تک ہزاروں افغان شہری پاکستان، ایران اور دیگر پڑوسی ممالک سے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔

رپورٹ میں اس بحران کی چار بنیادی وجوہات بیان کی گئی ہیں: پہلی وجہ طالبان کے قیامِ حکومت کے بعد معیشت کی شدید بدحالی ہے جس میں بین الاقوامی امداد کا معطلی ہونااور سرمایہ کاری کا جمود شامل ہے۔ دوسری بڑی وجہ خواتین پر تعلیمی اور کاروباری پابندیاں ہیں، جس نے خاندانی آمدنی کے ذرائع کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تیسری وجہ خشک سالی اور آبپاشی کے نظام کی کمی ہے، جس نے دیہی علاقوں میں روایتی روزگار کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔ چوتھی وجہ طویل عرصے تک مہاجرت کی زندگی گزارنے والے افراد میں موجودہ بازار کے مطابق ہنر یا تعلیم کا فقدان ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “وطن واپسی کے ساتھ ساتھ معاشی خودمختاری، تحفظ اور بنیادی خدمات تک رسائی ضروری ہے”۔ رپورٹ میں بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افغانستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور واپس آنے والوں کی دوبارہ آباد کاری کے لیے فوری اقدامات کرے۔ خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین سربراہ خاندانوں کے لیے ہنر مندی کی تربیت اور چھوٹے کاروباروں کے قیام کے پروگراموں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق، موجودہ صورت حال اگر جاری رہی تو یہ نہ صرف ایک انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے بلکہ افغانستان میں طویل مدتی استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ افغانستان میں موجودہ حکومت کی طرف سے اب تک واپس آنے والوں کے لیے کوئی جامع روزگار کی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے، جس سے بحران کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

دیکھیں: ایران میں احتجاجی مظاہروں میں اضافہ، میڈیا اور انٹرنیٹ بندش

متعلقہ مضامین

ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق انتہا پسندی کی فکری جڑوں کو ختم کیے بغیر محض عسکری کاروائیاں ناگزیر نتائج حاصل نہیں کر سکتیں اور تنظیمیں دوبارہ ابھر سکتی ہیں۔

June 2, 2026

بھارت کی جانب سے کشن گنگا پروجیکٹ پر ماحولیاتی بہاؤ کی خلاف ورزی اور ڈیٹا کی رازداری سندھ طاس معاہدے کو کمزور اور پاکستان کی آبی سیکیورٹی کو متاثر کر رہی ہے۔

June 2, 2026

گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا سے کارکنان لانے اور سیاسی ماحول کو متاثر کرنے کے الزامات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

June 2, 2026

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے خلاف تحریری ضمانت دینے سے انکاری ہیں، اس لیے ان پر اعتماد خطرناک ہے۔

June 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *