بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ پی ایچ ڈی طالبعلم بین اللہ ضیاء کی لاش بھارتی ریاست گجرات کے علاقے فتح گنج میں واقع اس کے کمرے سے برآمد ہوئی ہے۔ بین اللہ ضیاء آرکیٹیکچر کے شعبے میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے اور اسی علاقے میں رہائش پذیر تھے۔
رپورٹس کے مطابق ہفتے کی شام ان کی لاش ان کے بیڈروم سے ملی، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس حکام نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
پولیس کا ابتدائی مؤقف ہے کہ واقعہ غالباً خودکشی کا ہے، تاہم حتمی نتیجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئے گا۔ واقعے نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ افغان طلبہ اور کمیونٹی میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دیکھیں: ترکی کا سعودی عرب اور پاکستان کے دفاعی اتحاد میں شمولیت کا امکان