امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایران سے تجارتی تعلق رکھنے والے ممالک سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے جہاں حکومت مخالف مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ٹیرف ’فوری طور پر نافذ العمل‘ ہے تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ’ایران کے ساتھ کاروبار کرنے‘ کی تعریف کیا ہوگی یا کس نوعیت کا کاروبار کرنے والوں پر یہ محصولات عائد کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کے مطابق وزارت دفاع کے دو اعلیٰ حکام نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپشنز اور خفیہ کارروائیوں کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں، جو روایتی فضائی حملوں سے کہیں آگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر کے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا، جس میں ایران کے خلاف تازہ ترین آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ خود اس اجلاس میں شریک ہوں گے یا نہیں، تاہم انھوں نے بارہا کہا ہے کہ اگر ایران میں مظاہرین کا قتل عام ہوا تو امریکی حکومت ایران کے خلاف سخت کارروائی کر سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف ممکنہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق صدر ’ہمیشہ تمام آپشنز پر غور کرتے ہیں اور فضائی حملہ بھی ان میں شامل ہے۔‘
ترجمان کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’سفارت کاری صدر کا پہلا آپشن ہے۔ انھوں نے کل رات بھی یہی کہا تھا۔ ایرانی حکومت کی جانب سے عوامی سطح پر جو بیانات دیے جا رہے ہیں وہ ان پیغامات سے مختلف ہیں جو ہمیں نجی طور پر موصول ہو رہے ہیں اور صدر ان پیغامات پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے مزید کہا کہ ’صدر نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جب بھی وہ ضروری سمجھیں تو فوجی آپشن استعمال کرنے سے نہیں گھبراتے اور ایران اس حقیقت کو سب سے بہتر جانتا ہے۔‘
واضح رہے کہ ایران کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں چین، عراق، متحدہ عرب امارات، ترکی اور انڈیا بھی شامل ہیں۔
یہ نیا ٹیرف اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھ کہ اگر مظاہرین کو قتال کیا گیا تو ایران کارروائی کر سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر اعلان کیا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ہر ملک کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے تمام تجارتی لین دین پر 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔‘
وائٹ ہاؤس نے اس فیصلے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جن میں یہ وضاحت شامل ہو کہ کن ممالک کی درآمدات سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔
ایران میں کرنسی ’ریال‘ کی قدر میں شدید کمی کے بعد دسمبر کے آخر میں عوامی احتجاج شروع ہوا، جو اب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے لیے ایک بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’ایچ آر اے این اے‘ کے مطابق ایران میں تقریباً 500 مظاہرین اور 48 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ بی بی سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ مزید ہزاروں افراد کو گرفتار کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
جمعرات کی شام سے جاری انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے باعث درست اور تازہ معلومات حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایران کے اندر سے براہِ راست رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہیں۔
دیکھیں: ٹرمپ : اقوام متحدہ کا سچا سپاہی