قومی پیغام امن کمیٹی کے علماء نے پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی مذمت کی

January 13, 2026

ایران سے تجارت پر نئی امریکی پابندیوں کے تحت 25 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ سے بھارت کی برآمدات کو شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ چین، یو اے ای اور ترکی سمیت دیگر ممالک بھی اس اقدام سے متاثر ہوں گے

January 13, 2026

طالبان حکومت نے بھارت کے لیے نور احمد نور کو اپنا پہلا باقاعدہ سفیر مقرر کر دیا ہے، جو نئی دہلی میں افغان سفارت خانے میں خدمات انجام دیں گے

January 13, 2026

چینی ترجمان کا کہنا ہے کہ چین کو اپنے علاقے میں انفراسٹرکچر کی ترقی اور تعمیر کا مکمل حق حاصل ہے اور اس ضمن میں کسی بھی بیرونی مداخلت یا اعتراض کو مسترد کرتا ہے

January 13, 2026

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ روزمرہ کوآرڈینیشن یا معمول کے رابطوں کی اجازت اپنی جگہ موجود ہے مگر صوبائی اسمبلی میں امن و امان پر اِن کیمرہ بریفنگ کسی صورت معمول کا معاملہ نہیں، یہ ایک حساس اور باضابطہ ادارہ جاتی عمل ہے جس کے لیے وفاقی منظوری لازم ہوتی ہے۔

January 13, 2026

متحدہ عرب امارات اور پاکستان ایک نئے سفری معاہدے کے آخری مراحل میں ہیں، جس کے تحت پاکستان سے یو اے ای جانے والے مسافروں کے لیے “پری امیگریشن کلیئرنس” متعارف کرایا جائے گا

January 13, 2026

امریکی پابندیوں کے نتیجے میں بھارتی تجارت کو شدید خطرات

ایران سے تجارت پر نئی امریکی پابندیوں کے تحت 25 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ سے بھارت کی برآمدات کو شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ چین، یو اے ای اور ترکی سمیت دیگر ممالک بھی اس اقدام سے متاثر ہوں گے
ایران سے تجارت پر نئی امریکی پابندیوں کے تحت 25 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ سے بھارت کی برآمدات کو شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ چین، یو اے ای اور ترکی سمیت دیگر ممالک بھی اس اقدام سے متاثر ہوں گے

ماہرین کے مطابق مذکورہ فیصلے سے بھارت کی تجارتی حکمتِ عملی اور امریکی منڈی تک رسائی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے

January 13, 2026

امریکہ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر نئی پابندیوں کیا ہے، جس کے نتیجے میں دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ بھارت کی تجارتی حکمت عملی پر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عائد کردہ پابندیوں کے تحت ایران سے تجارتی روابط رکھنے والے ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیرف فوری طور پر نافذ کیا گیا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر بھارتی برآمدات پر ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو امریکی منڈی میں داخلے کے لیے مزید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ چین ایران کا اہم تجارتی شراکت دار ہے، تاہم اس اقدام سے بھارت، متحدہ عرب امارات اور ترکی جیسے ممالک بھی براہ راست متاثر ہوں گے، جو ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتے ہیں۔

تہران میں بھارتی سفارت خانے کے مطابق مالی سال 2024۔ 25 کے دوران بھارت نے ایران کو 1.24 ارب ڈالر مالیت کی اشیا برآمد کیں، جبکہ ایران سے 0.44 ارب ڈالر کی درآمدات کی گئیں۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان مجموعی تجارتی حجم 1.68 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

ٹریڈنگ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ایران سے درآمدات میں سب سے بڑا حصہ 512.92 ملین ڈالر مالیت کے نامیاتی کیمیائی مادوں کا رہا۔ 311.60 ملین ڈالر مالیت کے خوردنی پھل، گری دار میوے اور زرعی مصنوعات دوسرے نمبر پر رہیں، جبکہ 86.48 ملین ڈالر مالیت کے معدنی ایندھن، تیل اور ان سے کشید کیے گئے مصنوعات بھی بھارت کی اہم درآمدات میں شامل تھے۔

معاشی ماہرین کے مطابق امریکہ پہلے ہی روسی تیل کی خریداری سے منسلک بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد سے زائد ٹیرف عائد کر چکا ہے۔ اب ایران سے تجارت پر نئی پابندیوں کے بعد بھارتی مصنوعات پر مجموعی امریکی ٹیرف 75 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے بھارت کی برآمدات اور صنعتی شعبے کو نمایاں نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دیکھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بنگلہ دیش کے ایئر چیف کو مینار پاکستان کا علامتی تحفہ پیش کر دیا

متعلقہ مضامین

قومی پیغام امن کمیٹی کے علماء نے پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی مذمت کی

January 13, 2026

طالبان حکومت نے بھارت کے لیے نور احمد نور کو اپنا پہلا باقاعدہ سفیر مقرر کر دیا ہے، جو نئی دہلی میں افغان سفارت خانے میں خدمات انجام دیں گے

January 13, 2026

چینی ترجمان کا کہنا ہے کہ چین کو اپنے علاقے میں انفراسٹرکچر کی ترقی اور تعمیر کا مکمل حق حاصل ہے اور اس ضمن میں کسی بھی بیرونی مداخلت یا اعتراض کو مسترد کرتا ہے

January 13, 2026

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ روزمرہ کوآرڈینیشن یا معمول کے رابطوں کی اجازت اپنی جگہ موجود ہے مگر صوبائی اسمبلی میں امن و امان پر اِن کیمرہ بریفنگ کسی صورت معمول کا معاملہ نہیں، یہ ایک حساس اور باضابطہ ادارہ جاتی عمل ہے جس کے لیے وفاقی منظوری لازم ہوتی ہے۔

January 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *