امارتِ اسلامیہ افغانستان کے وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی نے افغانستان میں اقوام ِمتحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کے سیاسی شعبے کی قائم مقام سربراہ محترمہ جارجٹ گیگنن سے اہم ملاقات کی، جس میں دوحہ عمل کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون، ورکنگ گروپس کی پیش رفت اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
جانبین نے ملاقات کے دوران دوحہ عمل کے تحت انسداد منشیات اور نجی شعبے (پرائیویٹ سیکٹر) کی معاونت سے متعلق ورکنگ گروپس کی کارکردگی، اب تک ہونے والی پیش رفت اور آئندہ مجوزہ اجلاسوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل برائے امن و سیاسی امور روزمیری ڈی کارلو کے متوقع دورۂ افغانستان کے تناظر میں باہمی تعاون اور اس دورے سے وابستہ امور بھی زیر بحث آئے۔
وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی نے اس موقع پر کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان نے دوحہ عمل کے تحت قائم ورکنگ گروپس میں تسلی بخش پیش رفت حاصل کی ہے، بالخصوص انسداد منشیات کے شعبے میں عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ اس کے برعکس بعض دیگر فریقین متبادل ذریعہ معاش کی فراہمی اور بینکنگ سے متعلق مسائل کے حل میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پائیدار استحکام اور معاشی بہتری اس چیز سے مشروط ہے کہ متعلقہ شراکت دار دیگر اہم شعبوں میں بھی عملی اور مؤثر اقدامات کریں۔
یو این اے ایم اے کی قائم مقام خصوصی نمائندہ محترمہ جارجٹ گیگنن نے اس ماہ کے اختتام پر روزمیری ڈی کارلو کے دورۂ افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے اس حوالے سے تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دوحہ عمل کے تحت قائم دونوں ورکنگ گروپس کی گزشتہ ملاقاتوں کے نتائج کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ اقوام متحدہ ان شعبوں پر مزید توجہ مرکوز کرے گا تاکہ عملی پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دوحہ عمل کے تحت انسداد منشیات اور نجی شعبے کی معاونت سے آگے بڑھتے ہوئے دیگر اہم مسائل پر بھی نتیجہ خیز مکالمے اور مشترکہ تعاون کو فروغ دیا جائے۔ جانبین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی رابطے اور عملی شراکت کے ذریعے افغانستان میں استحکام، معاشی بہتری اور اعتماد سازی کے عمل کو مزید تقویت دی جائے گی۔
دیکھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافہ