قطر نے افغانستان کے معاملے پر متوازن اور مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ بات افغانستان سے متعلق اسلامی تعاون تنظیم کے رابطہ گروپ کے ایک تکنیکی تیاری اجلاس کے دوران سامنے آئی، جو او آئی سی کے ہیڈکوارٹر جدہ میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں قطر کی نمائندگی وزارتِ خارجہ کے خصوصی ایلچی کے دفتر سے وابستہ فرسٹ سیکرٹری خالد عبدالعزیز الخلیفی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس ایک نہایت اہم مرحلے پر منعقد ہو رہا ہے، جس میں افغانستان کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی درکار ہے۔ ان کے مطابق اس حکمتِ عملی میں فوری انسانی امداد، ذمہ دارانہ سیاسی روابط اور افغانستان کے مخصوص حالات کے احترام کو یکجا کرنا ہوگا، تاکہ او آئی سی کے اصولوں کے مطابق افغان عوام کے امن اور استحکام سے متعلق مطالبات کی حمایت کی جا سکے۔
قطری نمائندے نے کہا کہ یہ اجلاس تکنیکی جائزوں کے تبادلے، باہمی تعاون کے فروغ اور عملی سفارشات کی تیاری کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، جس سے رابطہ گروپ کی اجتماعی اور مؤثر کارروائی کی صلاحیت مضبوط ہو سکتی ہے۔
خالد عبدالعزیز الخلیفی نے اقوامِ متحدہ کی قیادت میں جاری دوحہ عمل کا بھی حوالہ دیا اور اسے افغانستان سے متعلق بین الاقوامی کوششوں میں ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوحہ عمل ایک ایسا متحدہ پلیٹ فارم ہے جو تمام متعلقہ فریقین کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کو ممکن بناتا ہے۔
دیکھیں: معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کے دفاعی ساز و سامان کی مانگ میں اضافہ: وزیراعظم