وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب سفارت کاری نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی تصادم کا خطرہ ٹال دیا، جس کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹس میں 3.6 ٹریلین ڈالر کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا

April 11, 2026

پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایران کے 86 رکنی وفد کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اسپیکر پارلیمان اور وزیر خارجہ کی قیادت میں آنے والے اس وفد میں جوہری ماہرین اور معاشی حکام کی شمولیت تہران کے سنجیدہ اہداف کو ظاہر کرتی ہے

April 11, 2026

سعودی طیاروں نے بھی ایرانی وفد کو پاکستان تک محفوظ پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جسے علاقائی سفارتکاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 11, 2026

خلیجی خطے میں جہاں کل تک جنگی صورتحال تھی، اب وہاں امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور فریقین مذاکرات کی میز پر آ چکے ہیں۔ انہوں نے ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت عالمی استحکام کیلئے نہایت اہم ہے۔

April 10, 2026

بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل میں بھارت کی عدم موجودگی پر اپنی حکومت پر تنقید بھی کی اور سفارتی سطح پر کردار ادا نہ کرنے پر سوالات اٹھائے۔

April 10, 2026

بعد ازاں یاتری گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور اور گوردوارہ ڈیرہ صاحب لاہور کی یاترا بھی کریں گے، جبکہ ان کی واپسی 19 اپریل کو متوقع ہے۔

April 10, 2026

تاجکستان کا طالبان حکومت کو دوٹوک پیغام: سرحدی دہشت گردوں کے خلاف کوئی نرمی نہیں

تاجکستان نے طالبان حکومت کو واضح انداز میں کہا ہے کہ وہ سرحدی دہشت گرد گروہوں اور منشیات اسمگلروں کے خلاف فوری اور سخت ترین کارروائی کرے، ورنہ خطے میں غیر استحکام کی ذمہ داری براہِ راست کابل پر ہوگی
تاجکستان نے طالبان حکومت کو واضح انداز میں کہا ہے کہ وہ سرحدی دہشت گرد گروہوں اور منشیات اسمگلروں کے خلاف فوری اور سخت ترین کارروائی کرے، ورنہ خطے میں غیر استحکام کی ذمہ داری براہِ راست کابل پر ہوگی

طالبان کے اقتدار میں واپسی نے تاجکستان، پاکستان اور ایران میں سلامتی، معیشت اور انسانی بحران کے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ دہشت گردی، منشیات اور مہاجرین کے مسائل خطے کے لیے مستقل خطرہ ہیں

January 19, 2026

تاجکستان کی سرحدی افواج نے افغان سرحد کے قریب چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے، جو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کر رہے تھے اور ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رہے تھے۔ مذکورہ کارروائی تاجکستان کے جنوبی صوبے خطلون میں کی گئی۔ سرحدی فورسز نے جائے وقوعہ سے تین کالاشنکوف رائفلیں، ایک غیر ملکی ساختہ پستول، چھ میگزین، 183 گولیاں، تین موبائل فون، ایک ریڈیو مواصلاتی ڈیوائس اور ایک کشتی برآمد کی ہے۔

تاجکستان کی ریاستی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ سرحد کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور کسی بھی سرحدی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ تاجکستان نے طالبان حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں سرگرم دہشت گرد گروہوں اور منشیات اسمگلروں کے خلاف فوری اور فیصلہ کُن اقدامات کریں تاکہ خطہ غیر مستحکم ہونے سے محفوظ رہے۔

مذکورہ واقعہ تاجکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی اور خطے میں بڑھتے ہوئے سلامتی خطرات کی واضح کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نومبر 2025 سے اب تک تاجک۔ افغان سرحد پر کم از کم پانچ دہشت گردانہ واقعات پیش آئے، جن میں 16 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سرحدی محافظ اور چینی شہری شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں جو تاجکستان کے لیے مسلسل خطرے کا باعث بنی ہوئی ہیں۔

داعش خراسان، جماعت انصار اللہ، القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہ خطے میں عدمِ استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض دہشت گرد طالبان کی مقامی سکیورٹی فورسز میں شامل ہو کر اپنی جنگی مہارت استعمال کر رہے ہیں، جس سے تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کی سلامتی متاثر ہو رہی ہے۔

تاجکستان کی کارروائی واضح پیغام ہے کہ سرحدی تحفظ اور قومی سلامتی اولین ترجیح ہیں اور کسی بھی دہشت گردانہ یا غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاجکستان افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ کشیدہ سیاسی تعلقات کے باوجود سرحدی حفاظت کے لیے مکمل محتاط ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس معاملے پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے بغیر پورے خطے کی سلامتی خطرے میں ہے، اور تاجکستان، پاکستان اور ایران جیسے ہمسایہ ممالک کو مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے خطے میں امن قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔

افغان بحران کے خطے پر اثرات

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں واپسی نے خطے کے ممالک کو سلامتی، معیشت اور انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ تاجکستان، پاکستان اور ایران، تینوں ممالک افغانستان کے ساتھ طویل سرحدیں رکھتے ہیں اور ان پر افغان بحران کے سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

تاجکستان میں دہشت گردی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر داعشخراسان اور دیگر گروہوں کے سرحد پار حملوں کی وجہ سے۔ سابق افغان فوجیوں کی سرحد پار آمد اور تجارتی راستوں میں رکاوٹیں ملکی سلامتی اور معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ تاجکستان نے روس کے ساتھ فوجی تعاون بڑھایا، چین کے ساتھ سلامتی مشاورت کی، اور طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرنے کی واضح پالیسی اختیار کی ہے۔

پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان کے بڑھتے ہوئے حملے، ڈیورنڈ لائن پر مسلسل فائرنگ کے واقعات اور افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے سلامتی اور انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ ملکی معیشت، تجارتی راستے اور سی پیک منصوبوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان میں 90 لاکھ سے زائد افراد منشیات کے عادی ہیں۔

ایران کو بھی مہاجرین اور منشیات کے دوہرا بحران درپیش ہے۔ تقریباً 35 لاکھ افغان مہاجرین کے بوجھ کے ساتھ ایران روزانہ ہزاروں نئے مہاجرین کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ افغان افیون کی اسمگلنگ اور منشیات کے عادی افراد میں اضافہ خطے میں خطرات بڑھا رہا ہے۔ طالبان کے ساتھ آبی وسائل پر تنازع اور نسلی کشیدگی بھی مسائل میں شامل ہیں۔

خطے کے ممالک دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور مہاجرین کے بحران جیسے مشترکہ چیلنجز سے دوچار ہیں۔ افغانستان میں استحکام کے بغیر تاجکستان، پاکستان اور ایران کی سلامتی مسلسل خطرے میں رہے گی۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ علاقائی تعاون، بین الاقوامی امداد اور جامع حکمت عملی کے ذریعے ان مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

دیکھیں: قطر نے او آئی سی اجلاس میں افغانستان میں بحران کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے معتدل حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کر دیا

متعلقہ مضامین

وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب سفارت کاری نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی تصادم کا خطرہ ٹال دیا، جس کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹس میں 3.6 ٹریلین ڈالر کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا

April 11, 2026

پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایران کے 86 رکنی وفد کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اسپیکر پارلیمان اور وزیر خارجہ کی قیادت میں آنے والے اس وفد میں جوہری ماہرین اور معاشی حکام کی شمولیت تہران کے سنجیدہ اہداف کو ظاہر کرتی ہے

April 11, 2026

سعودی طیاروں نے بھی ایرانی وفد کو پاکستان تک محفوظ پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، جسے علاقائی سفارتکاری میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

April 11, 2026

خلیجی خطے میں جہاں کل تک جنگی صورتحال تھی، اب وہاں امن کی باتیں ہو رہی ہیں اور فریقین مذاکرات کی میز پر آ چکے ہیں۔ انہوں نے ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت عالمی استحکام کیلئے نہایت اہم ہے۔

April 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *