مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

عالمی معیشت کو تزویراتی سہارا: پاکستان کی سفارتی کامیابی سے دنیا کو 3.6 ٹریلین ڈالر کا فائدہ

وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب سفارت کاری نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی تصادم کا خطرہ ٹال دیا، جس کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹس میں 3.6 ٹریلین ڈالر کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا
وزیراعظم شہباز شریف کی کامیاب سفارت کاری نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایٹمی تصادم کا خطرہ ٹال دیا، جس کے نتیجے میں عالمی اسٹاک مارکیٹس میں 3.6 ٹریلین ڈالر کا تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا

پاکستان کی تزویراتی ثالثی نے دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچا لیا۔ ماہرِ اقتصادیات عاطف میاں کے مطابق پاکستان نے عالمی معیشت کو اپنی جی ڈی پی سے 10 گنا زیادہ یعنی 3.6 ٹریلین ڈالر کا فائدہ پہنچایا ہے

April 11, 2026

7 اپریل کو جب دنیا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ہولناک الٹی میٹم کے باعث ایٹمی تصادم کے دہانے پر کھڑی تھی کہ “ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی”، پاکستان نے ایک عالمی نجات دہندہ کا کردار ادا کیا۔ اس نازک ترین صورتحال میں، جہاں پولی مارکیٹ جیسے عالمی پیش گوئی کے پلیٹ فارمز جنگ بندی کے امکانات کو 5 فیصد سے بھی کم دکھا رہے تھے، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی برق رفتار سفارت کاری نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔

پاکستان کے کلیدی کردار نے امریکہ اور ایران کو امن کی میز پر آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی کے امکانات فوری طور پر 100 فیصد تک پہنچ گئے۔ اس تاریخی کامیابی کا اعتراف واشنگٹن اور تہران دونوں نے عوامی سطح پر کیا ہے۔

عکھربوں ڈالر کا اضافہ

پاکستان کی اس سفارتی فتح کے اثرات محض سیاسی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی زندگی بخش ثابت ہوئے ہیں۔ معروف ماہرِ اقتصادیات عاطف میاں کے تجزیے کے مطابق، جنگ بندی کے یقینی ہوتے ہی عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ریکارڈ تیزی دیکھی گئی۔ امریکی انڈیکس میں 2.9 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے عالمی سطح پر مجموعی طور پر 3.6 ٹریلین ڈالر کی دولت میں اضافہ کیا ہے۔

یہ اعداد و شمار اس لحاظ سے حیران کن ہیں کہ پاکستان نے اپنی مجموعی قومی پیداوار سے بھی 10 گنا زیادہ مالیت کا معاشی فائدہ عالمی معیشت کو پہنچایا ہے، جس سے ڈوبتی ہوئی عالمی منڈیوں کو ایک مضبوط تزویراتی سہارا میسر آیا۔

پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے ٹلنے سے نہ صرف ایک ممکنہ ایٹمی جنگ کا خطرہ ختم ہوا بلکہ پاکستان کی شناخت ایک “گلوبل پیس میکر” کے طور پر ابھری ہے۔ عاطف میاں کے مطابق، پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے قیام کے لیے ناگزیر قوت ہے۔ اس غیر معمولی سفارتی اثر و رسوخ نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اب توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان اس نئی شناخت کو آگے بڑھاتے ہوئے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ اندرونِ ملک بھی امن، رواداری اور شمولیت کی سیاست کو فروغ دے گا تاکہ معاشی اور سفارتی استحکام کا یہ سفر جاری رہ سکے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *