گزشتہ روزکابل کے محفوظ ترین علاقے میں چینی ریسٹورنٹ میں ہونے والے خودکش دھماکہ نے نہ صرف سات انسانوں کی موت کا سبب بنا بلکہ طالبان حکومت کے امن و امان کے دعوؤں کو بھی شدید چیلنج کیا ہے۔ داعش خراسان نے کابل دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ مذکورہ حملہ چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے منظم سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سوموار کے روز شام 6:30 بجے کے قریب خودکش بمبار نے ریسٹورنٹ کے مرکزی ہال کے قریب کچن کے راستے میں خود کو دھماکے سے اڑایا۔ رپورٹ کے مطابق دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ہوٹل کے قریب دس سے زائد دفاتر اور دکانیں بھی متاثر ہوئیں۔ نیز سڑک پر کرسیوں اور میز کے ٹکڑے سیکڑوں میٹر تک پھیل گئے۔
ہلاک شدگان
حملے کے باعث سات افراد ہلاک ہوئے جن میں چینی مسلمان شہری ایوب، ریسٹورنٹ کے مالک عبدالماجد، شیف عبدالجبار محمود سمیت چار افغان ملازمین ہلاک ہوئے۔ اسی طرح کل 24 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے، جن میں مردوں سمیت چار خواتین اور ایک 8 سالہ بچہ شامل ہے۔
ابتدائی بیان اور تضاد
افغان طالبان کے ترجمان عبدالستار قانع نے ابتداءً میڈیا کو بتایا کہ یہ گیس سلینڈر کا حادثہ تھا۔ تاہم دھماکے کے فوری بعد کی تصاویر اور ویڈیوز میں ریسٹورنٹ میں موجود تمام گیس سلینڈرز کو صحیح حالت میں دیکھا جا سکتا تھا۔ مزید یہ کہ دھماکے کے مرکز میں گہرے دھوئیں کے نشانات اور بازوؤں کے اعضا ملے، جو خودکش حملے کی واضح علامات ہیں۔
داعش خراسان کا بیان اور تناظر
دھماکے کے محض چار گھنٹے بعد داعش خراسان نے اپنے ٹیلی گرام چینلز کے ذریعے ایک تفصیلی بیان جاری کیا۔ بیان کے مطابق ہمارا مجاہد، ابو عبداللہ الخوارزمی، نے کابل کے مرکز میں چینی کافروں کے مرکز میں خود کو شہید کیا ہے۔ یہ کارروائی ہمارے ایغور بھائیوں پر چینی ظلم کے خلاف انتقام ہے۔ ہم چین کو خبردار کرتے ہیں کہ اس کے جرائم کی قیمت اسے ہر جگہ چکانی پڑے گی۔ طالبان مرتد حکومت اس کفریہ طاقت کے ساتھ معاونت کر رہی ہے۔
داعش خراسان نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران اس نوعیت کا یہ تیسرا بیان جاری کیا ہے جس میں چین کو براہ راست دھمکی دی گئی ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کار ڈاکٹر احمد رضا کے مطابق داعش خراسان نے اپنی حکمت عملی بدل دی ہے۔ وہ اب صرف طالبان کو نشانہ بنانے کی بجائے افغانستان میں موجود غیر ملکی طاقتوں بالخصوص چین کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔
طالبان اور داعش خراسان کے تعلقات
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی دونوں گروہوں کے مابین مسلح جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، لیکن داعش خراسان اپنی تنظیمی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کے 3,000 سے 4,000 باقاعدہ جنگجو افغانستان کے مختلف صوبوں میں فعال ہیں، مذکورہ گروہ افغانستان کے ننگرہار، کنڑ اور نورستان کے پہاڑی علاقوں میں مضبوط ہے۔ رپورٹ کے مطابق وسطی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کا ایک بڑی تعداد اس گروہ کا حصہ ہے۔

افغان شہری دھماکے کے بعد ہوٹل کے قریب سے گزرتے ہوئے
چینی شہریوں پر حملوں کا تسلسل
چینی شہریوں کو خطے میں نشانہ بنانے کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے، جو دہشت گرد گروہوں کے مقاصد کو واضح کرتا ہے۔ ستمبر 2025 میں افغانستان کے شمالی صوبے تخار میں ایک چینی انجینئر کو کر قتل کیا گیا، جس کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی۔ اس سے قبل دسمبر 2022 میں کابل ہوٹل میں ہونے والے خودکش حملے میں پانچ چینی شہری ہلاک ہوئے تھے، جو اسی گروہ نے کیا تھا۔ پاکستان میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا، جہاں جولائی 2021 میں پاکستان میں چینی شہریوں پر مشتمل بس پر ہونے والے خودکش حملے میں نو چینی ہلاک ہوئے، جس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ مزید یہ کہ جون 2017 میں کوئٹہ میں چینی اساتذہ کو اغواء کے بعد قتل کا واقعہ، ج کی داعش نے ذمہ داری قبل کی تھی۔ مذکورہ تمام تر واقعات خطے میں چینی مفادات اور شہریوں کے خلاف منظم دہشت گردی کی ایک ہم آہنگ حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں۔
چین کی حکمتِ عملی اور خطرات
چین نے گزشتہ دہائی میں افغانستان میں 60 بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، جس میں معدنیات کے شعبے خصوصاً تانبے اور لیتھیم کی کان کنی شامل ہے۔ چینی کمپنیاں افغانستان میں کام شروع کر چکی ہیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں چینی شہری افغانستان میں مقیم ہیں۔
چین کے افغانستان میں خصوصی سفیر یوے ژیاؤیونگ نے گزشتہ ہفتے ہی کابل کا دورہ کیا تھا اور طالبان حکومت سے چینی شہریوں کی حفاظت کے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔
بین الاقوامی ردعمل
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کابل دھماکے پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گردانہ واقعہ خطے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی واضح علامت ہے۔ ہم طالبان حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ میں پریس کانفرنس میں کہا کہ چین اس دہشت گردانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ہم افغانستان سے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے واشنگٹن نے کہا کہ مذکورہ واقعہ دہشت گرد گروہوں کی افغانستان میں مسلسل موجودگی کی تصدیق کرتا ہے۔ طالبان کو بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔
افغان سرزمین اور دہشت گرد گروہوں کا عروج
افغانستان میں اس وقت ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان گروہوں کا وجود دراصل اس بات پر مستدل ہے کہ ان گروہوں کا وجود افغان طالبان کی سرپرستی اور نرم پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ افغان طالبان کے ان گروہوں سے متعلق رویّوں اور پالیسیوں نے ہی ان گروہوں کے وجود کو افغان سرزمین پر وسیع کرنے کا موقع دیا ہے۔ کابل کے شہرِنو جیسے محفوظ ترین علاقے میں خودکش حملہ اسی ناکامی کی واضح ثبوت ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ملک کے اندر امن و امان کے لیے سنگین خطرہ ہے بلکہ اس نے پورے خطے کی سلامتی کو غیر مستحکم کر دیا ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے اور افغانستان دہشت گرد پناہ گاہ کے طور پر بدنام ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر طالبان اس انتشار پر قابو نہ پا سکے تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ قلیل عرصے میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ، سرمایہ کاری کا خاتمہ اور بین الاقوامی تنہائی مقدر بن سکتی ہے۔ طویل مدتی میں یہ تقسیم ملک کو مزید مسلح گروہوں کے عروج، خانہ جنگی کے نئے دور، اور خطائی عدم استحکام کی جانب دھکیل سکتی ہے۔ افغانستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ طالبان کس حد تک اپنی صفوں میں یکجہتی پیدا کر کے ایک مربوط حکومت کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ ورنہ، یہ ملک نہ صرف اپنے عوام بلکہ پورے عالمی برادری کے لیے ایک مستقل سلامتی کے بحران کا مرکز بن کر رہ جائے گا۔
دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک