پاکستانی فوج نے روز اول سے مشرقِ وسطیٰ میں مستقل اور مؤثر کردار ادا کیا ہے، جو ابتدائی تربیتی اور مشاورتی مشنز سے لے کر خلیج اور شمالی افریقہ میں علاقائی استحکام اور سیاسی توازن قائم رکھنے تک پہنچ چکا ہے۔
پاکستان کی افواج نے روایتی دفاعی کردار سے آگے بڑھتے ہوئے دفاعی سفارت کاری کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے غزہ سے ایران تک متعد بحرانوں میں ثالثی، جنگ بندی کے انتظام اور خطے میں سیاسی توازن قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے کردار کو بارہا مرتبہ تسلیم کیا۔
پاکستان نے سعودی عرب، ترکی، عراق، اردن، مصر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنی عسکری شراکت داری کو مستحکم کیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات، مشترکہ فوجی مشقیں، پائلٹس اور سکیورٹی فورسز کی تربیت اور دفاعی تعاون نے پاکستان کو ایک فعال سیاسی اور عسکری اثر و رسوخ فراہم کیا ہے، بالخصوص وہاں جہاں طاقت کا توازن اور استحکام داؤ پر ہے۔
تحقیقات کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کے جنوبی علاقوں میں حمایت کے تنازعے پر پیدا ہونے والی کشیدگی میں ثالثی اور پل کا کردار اپنایا ہے۔ سعودی فضائی حملوں کے بعد پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں خلیجی ممالک کے درمیان سفارتی حل کی کوششیں تیز کیں۔ اس مؤقف کا پس منظر پاکستان کے خطے میں متعدد عسکری شراکت داریاں ہیں، جن میں لیبیا میں چار ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ اور ترکی کے ساتھ قریبی فوجی تعاون شامل ہیں۔ معاہدے کے باوجود ترکی سے تعلقات پر کشیدگی نہیں آئی، بلکہ ترکی کی جانب سے اسے اپنی منظوری سے طے پانے والا معاہدہ قرار دیا گیا۔ پاکستان ترکی کے ساتھ فائیفتھ جنریشن جنگی طیارے کے منصوبے میں باضابطہ شراکت دار ہے اور یونان کے خدشات کے باوجود ترکی کی سرحدی سلامتی میں معاونت جاری رکھے ہوئے ہے۔

جنوری 2026 کو یمن کے صوبہ حضرموت کے دارالحکومت مکلا کے مضافات میں واقع دوسری فوجی کمانڈ پر قبضہ کرنے والی فورسز۔
تحقیقات کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فوج کا مرکزی کردار برقرار ہے اور غیرجانبداری، اعتماد اور اسٹریٹجک رابطہ کاری کے ذریعے پاکستان مختلف ممالک کے مابین مذاکرات کے لیے پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کے مسئلے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے میں بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔
رواں سال میں پاکستان کی عسکری موجودگی براہِ راست سیاسی اثر و رسوخ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یمن، لیبیا اور غزہ میں پاکستان کی شمولیت علاقائی استحکام کو مضبوط بناتی، اہم مذاکرات پر اثر انداز ہوتی اور متحارب طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھتی ہے۔ پاکستان کا کردار محض ضمنی نہیں بلکہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جو اسے مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی و سیاسی نتائج کی تشکیل میں ایک کلیدی معمار اور سلامتی و سفارت کاری کا قابلِ اعتماد شراکت دار بناتا ہے۔