یہ کوئی بارہ سال پہلے کی بات ہے۔ تب بی جے پی کے نریندر مودی وزیراعظم نہیں بنے تھے، مگر اس کے آثار نظر آنے لگے تھے۔ سینئر صحافیوں کی ایک محفل میں کسی نے کہا کہ اللہ خیر رکھے، بھارت میں بی جے پی کو نہیں جیتنا چاہیے ، اس سے بہت مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اس پر کچھ دیر بات چیت ہوتی رہی، پھر ہمارےایک بزرگ صحافی نےایک انوکھی بات کہہ دی۔ اب وہ دنیا سے رخصت ہوچکے، اللہ ان پر اپنا کرم فرمائے۔ وہ کہنے لگےکہ بی جے پی کا بھارت میں آنا بھارتی مسلمانوں اور اس خطے کے لئےبہت نقصان دہ اور تکلیف کا باعث بنے گا، مگر اس شر میں سےخیر کا ایک پہلو بھی ہے۔
ہم سب نے حیرت سے پوچھا کہ ایک شدت پسند ہندو تنظیم کے جیتنے میں آخر کیا خیر ہو سکتی ہے؟ وہ کہنے لگے،دراصل بھارت میں کانگریس جیسی بظاہر معتدل جماعت بھی اندر سےاتنی ہی ہندو شدت پسندی کا شکار ہے، وہ بھی کہیں پر مسلمانوں کو کوئی رعایت نہیں دیتی، کشمیر کا مسئلہ کانگریسی رہنمائوں ہی نےپیچیدہ اور گنجلک بنایا ۔مشرقی پاکستان میں پراکسی وار اور پھر بلاجواز فوج کشی کر کےسقوط پاکستان کا باعث کانگریس کی اندرگاندھی ہی بنی تھی۔ فرق یہ ہے کہ کانگریس اپنے اوپرسیکولرازم کا چمکتا دمکتا نقاب اوڑھے رکھتی ہے، جس سے بہت کچھ چھپ جاتا ہے۔ لوگ کانگریس جمہوریت، سیاسی اخلاقیات، روایات،رواداری کی توقع رکھتےہیں اور وہ بھی جواب میں کچھ نہ کچھ ڈھونگ رچا ہی لیتی ہے۔ بی جےپی کے جیتنے کی صورت میں یہ پردے ہٹ جائیں گے۔ پھر ہندو شدت پسندی کا اصل چہرہ پوری طرح عیاں ہو جائے گا ۔
یہ باتیں اتنے برس گزر جانے کے باوجود میرے ذہن میں نقش ہیں، بار بار یہ خیال آتا ہے کہ واقعی وہ تمام پیش گوئیاں سو فی صد درست تھیں۔ ہندوستان میں بی جےپی اور نریندر مودی جی کی وزارت عظمی کے ادوار نے ہر ملمع ، ہر نقاب، ہر پردہ اتار پھینکا ہے۔ اندازہ ہوگیا کہ ہندوستان کے ہندو اکثریتی عوام میں کس قدر غصہ، کینہ ، نفرت اور بغض موجود تھا۔ خاص کر نارتھ انڈیا میں تو یہ نفرت ، عدم برداشت اور غصہ انتہا پر ہے۔
اس فکری ماحول کے پیچھے بی جے پی کی مدر پارٹی اور اصل قوت آر ایس ایس کا اثر واضح ہے، جس کی نظریاتی تشکیل میں مسلمان ایک تاریخی حریف کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ نفرت انگیز تقاریر، بائیکاٹ مہمات اور ہجوم کے تشدد کو سماجی قبولیت ملتی چلی گئی۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اب محض سوشل میڈیا کے شور یا انتخابی جلسوں کی زبان تک محدود نہیں رہی۔ یہ ایک منظم، ہمہ گیر اور ادارہ جاتی صورت اختیار کر چکی ہے۔ایسی صورت جو سیاست، معیشت، ثقافت اور اب کھیل کے میدانوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں تعصب صرف رائے نہیں رہتا، پالیسی اور رویہ بن جاتا ہے۔
ساوتھ انڈیا کا معاملہ کچھ مختلف ہے مگر بھارت میں اصل طاقتور پوزیشن نارتھ انڈیا ہی کو حاصل ہے، ملازمتوں، فوج ، پولیس ، میڈیا، بیوروکریسی، سول سوسائٹی غرض ہر جگہ نارتھ اپنے ساوتھ پر غلبہ رکھتا ہے۔ اس نارتھ انڈیا نے وہ گل کھلائے ہیں کہ آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ ایسی کج فہمی، ایسی کم عقلی! شدت سے احساس ہوتا ہے کہ قائدین پاکستان نے بڑی دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور الگ وطن بنا دیا ورنہ پاکستان کے پچیس کروڑ مسلمان بھی ہندوستان میں بری طرح پس رہے ہوتے۔
سچ یہ ہے کہ بی جے پی اور نریندر مودی جیسے لیڈروں نے نظریہ پاکستان اور قائداعظم کے ویژن کو عملاً درست ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان میں اگر کسی کو معمولی سا شک بھی تھا تو پچھلے چند برسوں میں وہ دور ہوگیا۔ اگر کوئی پاکستانی سیکولر یہ کہتا تھا کہ پاکستانی عسکری پالیسی انڈیا سینٹرک کیوں ہے تو مئی میں جس طرح انڈین فوج نے جس طرح پاکستان پر میزائل داغے اور جیسے نام نہاد آپریشن سیندور کی آڑ لے کر وہ پاکستان پر چڑھ دوڑا ، اگر ہماری تیاری مکمل نہ ہوتی، اگر ہم نے بھارتی اسلحے اور ان کی عسکری صلاحیت کا پورا حساب کتاب رکھ کر جوابی حکمت عملی پہلے سے تیار نہ رکھی ہوتی تو خود اندازہ کر لیں کہ کتنی بڑی مشکل کھڑی ہوجاتی۔ افواج پاکستان کو سراہنا چاہیے جنہوں نے دشمن کے جواب کی بھرپور تیاری کر رکھی تھی۔
بات بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور عدم برداشت کی ہو رہی تھی، اس پس منظر میں کرکٹ کا کھیل بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ کرکٹ کے میدان میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر فیصلے ہونا دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ قوم پرستی نے کھیل کے اصولوں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔
یہی کچھ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش کے اسٹار فاسٹ بولر مستفیض الرحمن کے ساتھ ہوا۔ آئی پی ایل میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے وابستہ مستفیض کے خلاف سوشل میڈیا پر ایسی مہم چلائی گئی جس کی بنیاد کارکردگی نہیں بلکہ شناخت تھی۔ اسلاموفوبک ٹرولنگ، بائیکاٹ کی کالز اور مذہبی لیبلنگ نے معاملے کو کھیل سے نکال کر نظریاتی تصادم بنا دیا۔ بالآخر انڈین کرکٹ بورڈ پر غیر معمولی دباؤ آیا، جس کی ہدایت پر کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے مستفیض کو آئی پی ایل سے باہر کر دیا۔
یہ صریحاً ظلم اور زیادتی تھی۔ مستفیض کا صرف یہی قصور تھا کہ وہ بنگلہ دیشی ہے ، جہاں کے عوام نے بھارت کی آلہ کار سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو عوامی احتجاج سےحکومت سےباہر کر دیا۔ اس میں مستفیض کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ وہ تو ایک غیر سیاسی شخص، ایک پروفیشنل کرکٹر ہے۔ اسے مگر صرف بنگلہ دیشی ہونے کے ناتے نفرت کا نشانہ بنایا گیا اور آئی پی ایل سےباہر کر دیا گیا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ نہ کارکردگی زیرِ سوال تھی، نہ کوئی ڈسپلنری خلاف ورزی، مسئلہ صرف شناخت تھا۔
بنگلہ دیش میں اس واقعے پر شدید ردعمل فطری تھا۔ عوامی سطح پر اسے مذہبی امتیاز سمجھا گیا اور ریاستی سطح پر وقار اور احترام کا سوال بن گیا۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیش نے سکیورٹی خدشات کے باعث ورلڈ کپ کے لیے بھارت ٹیم بھیجنے سے انکار کر دیا ۔ بنگلہ دیشی ٹیم کا سٹانس مضبوط اوراصولی تھا، مگر بھارت نے اپنی تعلقات اور پیسے کی قوت سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر مکمل قبضہ جما رکھا ہے۔ بھارت چاہتا تو بنگلہ دیش کے مطالبے پرمنصفانہ انداز میں غور کر سکتا تھا۔ اسے اکاموڈیٹ جاتا یا کم از کم بنگلہ دیش کے میچز ہی ساوتھ انڈین گراونڈزپرمنتقل کئے جاتے جہاں مذہبی تفریق نہیں ہے۔ اس کے بجائے نہایت رعونت سے بی جے پی کے رہنما اوروفاقی وزیر امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ جو اس وقت آئی سی سی کے صدر ہیں، انہوں نے بنگلہ دیشی مطالبے کو رد کر دیا۔ پاکستان نے البتہ ڈٹ کر بنگلہ دیش کا ساتھ دیا۔ بنگلہ دیشی ٹیم اب شائد ورلڈ کپ سے باہر ہوجائے۔ بنگلہ دیشی ٹیم ،کرکٹ بورڈ اور ان کی حکومت نے مگر ڈٹ کر سٹینڈ لیا اور بھارت کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا۔ یہ تنازع ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا، مگر اس نے جنوبی ایشیا میں کرکٹ ڈپلومیسی کو واضح نقصان پہنچایا ہے۔
اس کا ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ جب مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بنا تو اندرا گاندھی نے بڑے تفاخر سے اعلان کیا کہ میں نے نظریہ پاکستان بحر ہند میں غرق کر دیا ہے۔ آج کوئی اندراگاندھی کی آتما سے پوچھے کہ اب کہاں سے وہ نظریہ پاکستان پھر زندہ ہوگیا ؟آج کیوں بنگلہ دیشی عوام اور پاکستانی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑک رہے ہیں، دونوں ایک ساتھ کھڑے ہیں جبکہ وہ بھارت جو فخر سےکہتا تھا کہ اس نے بنگلہ دیش بنایا، آج وہ صف دشمناں میں کھڑا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے، یہ درحقیقت نظریہ پاکستان کی واپسی ہے۔نئے محبت آمیز دوستانہ انداز سے ، جس میں بنگلہ دیشی عوام کی خودمختاری اور ملکی احترام بھی شامل ہے۔ جس میں پاکستان، بنگلہ دیش کو تسلیم کرتے ہوئے، وہاں کے عوام کے دل جیت کر محبت اور رواداری کا رشتہ قائم رکھے ہوئے ہے۔
بھارت کے لیے اس کے مضمرات گہرے ہیں۔ ایک طرف سافٹ پاور مجروح ہو رہی ہے، دوسری طرف خطے میں اخلاقی دعویٰ کمزور پڑ رہا ہے۔ سب سے اہم سوال مگر اندرونی ہے۔ اگر ایک غیر ملکی مسلمان کھلاڑی شناخت کی بنیاد پر قابلِ قبول نہیں، تو بھارت اپنے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کو کیا پیغام دے رہا ہے؟
نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ انڈر نائنٹین سطح پر بھی بھارت کا نوجوان کپتان بنگلہ دیش کے کپتان سے ہاتھ نہیں ملا رہا۔ یہ رویہ زیادہ تر پاکستان کے خلاف دکھائی دیتا رہا، اب بنگلہ دیش بھی اسی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ یعنی نفرت اب وراثت بن رہی ہے،سکھائی جا رہی ہے۔اگر ہاتھ ملانا نظریاتی مسئلہ بن چکا ہے، تو سوال صرف کرکٹ کا نہیں رہتا۔سوال پھر یہ ہے کہ کیا یہ راستہ ایک کثیرالثقافتی جمہوریت سے ایک شدید پسند نسلی اور ہندوتوا ریاست کی طرف جاتا ہے؟
کھیل ہمیشہ پل بناتے ہیں،قوموں، ثقافتوں اور عوام کے درمیان۔ لیکن جب اسکور بورڈ پر رنز سے زیادہ شناخت اہم ہو جائے، تو کھیل ہار جاتا ہے۔ اور جب کھیل ہارتا ہے، تو سماج جیت نہیں پاتا۔
یہ اب کسی ایک کھلاڑی، کسی ایک میچ یا کسی ایک رپورٹ کا معاملہ نہیں رہا۔ جب نفرت کو اعداد و شمار میں ناپا جا سکے، جب ریاستی سرپرستی میں اسے معمول بنایا جائے، اور جب اس کا عکس اسٹیڈیم سے اسکولوں اور انڈر نائنٹین ٹیموں تک دکھائی دے، تو پھر یہ کہنا خود فریبی ہے کہ بھارت ابھی تک ایک کثیرالثقافتی جمہوریت ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مسلمان اس ماحول میں کیسے جییں گے؟ سوال یہ ہے کہ ایسا معاشرہ خود کب تک قائم رہ سکے گا۔ تاریخ کا اصول سادہ ہے: جو ریاست نفرت کو شناخت بنا لے، وہ آخرکار اپنی ہی وحدت، اخلاقی وقار اور مستقبل کو کھو بیٹھتی ہے۔