ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

نئے صوبوں کے قیام سے روزگار کے مواقع بڑھنے یا نہ بڑھنے کا انحصار انتظامی ڈھانچے اور نئی آسامیوں پر ہوگا۔

October 1, 2026

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کورگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران پہلگام حملے سے مبینہ طور پر مطلوب شخص مارا گیا ہے۔

October 1, 2026

پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے والے 260 ہلاک افغان شدت پسندوں کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے۔

October 1, 2026

گورنر راج اور ایمرجنسی دو الگ آئینی اقدامات ہیں، جن کی شرائط اور طریقۂ کار بھی مختلف ہیں۔

October 1, 2026

بھارت بھر میں آج 77واں یوم جمہوریہ منایا جا رہا ہے، کشمیریوں کی عالمی برادری سے یوم سیاہ منانے کی اپیل

یومِ سیاہ کے مظاہروں کے ذریعے کشمیری عوام نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو ایک قابض طاقت کے طور پر تسلیم کرے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور کشمیری عوام کو ان کا جائز اور تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دلانے میں عملی کردار ادا کرے۔
بھارت بھر میں آج 77واں یوم جمہوریہ منایا جا رہا ہے، کشمیریوں کی عالمی برادری سے یوم سیاہ منانے کی اپیل

بھارتی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ یومِ جمہوریہ سے قبل بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے مبینہ طور پر 10 ہزار کلو گرام بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے۔ تاہم اس دعوے سے متعلق آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔

January 26, 2026

بھارت آج پیر 26 جنوری 2026 کو اپنا 77 واں یومِ جمہوریہ منا رہا ہے، تاہم مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری اس دن کو یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔ کشمیری عوام کا کہنا ہے کہ بھارت کا یومِ جمہوریہ ان کی غلامی، حقِ خودارادیت سے محرومی اور دہائیوں پر محیط مظالم کی علامت ہے۔

یومِ سیاہ منانے کی اپیل


کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یومِ سیاہ منانے کی اپیل آل پارٹیز حریت کانفرنس کی جانب سے کی گئی۔ اپیل میں کہا گیا کہ بھارت نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے باوجود کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت سے محروم رکھا ہوا ہے، اس لیے بھارت کے یومِ جمہوریہ کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال


یومِ سیاہ کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور دفاتر بند رہے جبکہ سڑکوں پر غیر معمولی خاموشی دیکھی گئی۔ آزاد کشمیر، پاکستان اور مختلف عالمی دارالحکومتوں میں بھارت مخالف ریلیاں اور مظاہرے بھی منعقد کیے گئے جن میں کشمیریوں نے بھارتی قبضے کے خلاف آواز بلند کی۔

سیکیورٹی کے نام پر سخت پابندیاں


ہر سال کی طرح اس بار بھی 26 جنوری کشمیری عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنا۔ بھارتی فورسز نے وادی کشمیر اور جموں ریجن میں غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات نافذ کیے۔ سرکاری تقریبات کے مقامات کی طرف جانے والی سڑکیں خار دار تاروں سے بند کی گئیں، ڈرونز کے ذریعے نگرانی کی گئی اور بھارتی پیراملٹری فورسز نے سنیفر کتوں کے ہمراہ مختلف علاقوں میں اچانک ناکے لگا کر گاڑیوں اور شہریوں کی سخت تلاشی لی۔

دس ہزار کلو بارودی مواد برآمد ہونے کا دعویٰ


بھارتی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ یومِ جمہوریہ سے قبل بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے مبینہ طور پر 10 ہزار کلو گرام بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے۔ تاہم اس دعوے سے متعلق آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آ سکی، جبکہ کشمیری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے اکثر سخت سیکیورٹی اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔

نئی دہلی میں فوجی طاقت کا مظاہرہ


دوسری جانب بھارت نے دارالحکومت نئی دہلی میں یومِ جمہوریہ کی مرکزی تقریب میں بھرپور فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ کارتویہ پاتھ پر ہونے والی پریڈ میں میزائل، جنگی طیارے، نئے فوجی یونٹس اور جدید ہتھیاروں کی نمائش کی گئی۔ اس موقع پر برہموس اور آکاش میزائل سسٹمز، راکٹ لانچر سوریہ آستر، مین بیٹل ٹینک ارجن اور دیگر مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی پلیٹ فارمز پیش کیے گئے۔

یورپی قیادت کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت


تقریب میں یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈر لیئن بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئیں۔ بھارتی صدر دروپدی مرمو نے سلامی لی جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، دیگر وفاقی وزرا، عسکری قیادت، سفارت کار اور اعلیٰ حکام بھی تقریب میں موجود تھے۔

تقریب کا مرکزی موضوع اور ثقافتی مظاہرہ


یومِ جمہوریہ کی تقریب کا مرکزی موضوع 150 سالہ ’وندے ماترم‘ رکھا گیا۔ پریڈ کے آغاز میں تقریباً 100 فنکاروں نے ’ودِوِدھتا میں ایکتا‘ یعنی اتحاد میں تنوع کے عنوان سے موسیقی اور ثقافتی مظاہرہ پیش کیا، جس میں مختلف ریاستوں کی ثقافت اور روایات کو اجاگر کیا گیا۔

کشمیریوں کا عالمی برادری سے مطالبہ


یومِ سیاہ کے مظاہروں کے ذریعے کشمیری عوام نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو ایک قابض طاقت کے طور پر تسلیم کرے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور کشمیری عوام کو ان کا جائز اور تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دلانے میں عملی کردار ادا کرے۔

دیکھیں: طالبان دور میں غذائی بحران بے قابو، ایک کروڑ 70 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار

متعلقہ مضامین

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مبینہ ہندوستانی کاروائی میں شہید ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو کو زندہ سلامت پیش کر دیا

October 1, 2026

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے مزارِ حضرت یوسفؑ پر دھاوا بول دیا، جبکہ غزہ میں تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 100 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

October 1, 2026

نئے صوبوں کے قیام سے روزگار کے مواقع بڑھنے یا نہ بڑھنے کا انحصار انتظامی ڈھانچے اور نئی آسامیوں پر ہوگا۔

October 1, 2026

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے کورگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران پہلگام حملے سے مبینہ طور پر مطلوب شخص مارا گیا ہے۔

October 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *