افغان طالبان کے ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں افغانستان میں نافذ کیے گئے نئے تعزیری قانون کے بارے میں وضاحتیں پیش کیں۔ خیال رہے کہ یہ قانون گزشتہ دنوں جاری کیا گیا تھا جس پر بین الاقوامی سطح پر تنقید اور شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امارت اسلامیہ کے پاس جدوجہد کے دور میں بھی عدالتیں موجود تھیں جو شریعت کی بنیاد پر مرتب کردہ اصولوں کے مطابق فیصلے کرتی تھیں۔ تاہم موجودہ دور میں حالات بدلنے کے بعد ان اصولوں پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوئی۔
ان کے مطابق اب پورا افغانستان ایک ہی حکومت کے تحت ہے، قانونی امور مربوط ہو چکے ہیں اور عدالتیں اسی نظام کا حصہ ہیں۔ لہٰذا شریعت اور فقہ حنفی کے عین مطابق اصولوں کا نیا مجموعہ تیار کیا گیا، جو ایک ناگزیر ضرورت تھی۔
شہریوں کی درجہ بندی
انٹرویو میں صحافی نے قانون کی اس دفعہ سے متعلق سوال کیا جو شہریوں کو تین طبقات (اعلیٰ، متوسط اور نچلے طبقے) میں تقسیم کرتی ہے۔ ملا ذبیح اللہ مجاہد نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ درجہ بندی تعزیرات کے معاملات میں لاگو ہوتی ہے، نہ کہ حدود کے معاملات میں۔ نیز شریعت کے نقطۂ نظر سے قانونی معاملات کی تین اقسام ہیں: حدود، حقوق اور تعزیرات۔ تعزیرات کے معاملات میں سزا کا مقصد فقط سزا دینا نہیں بلکہ تکرارِ جرم کی روک تھام اور اصلاحی پہلو رکھنا ہے۔
طبقاتی تقسیم کی وجوہات
ملا ذبیح اللہ مجاہد نے وضاحت کی کہ تعزیرات میں درجہ بندی کی بنیاد سماجی حیثیت نہیں بلکہ فرد کے رویے اور جرائم کی عادت پر ہے۔ کچھ افراد سماجی حیثیت رکھتے ہیں اور انہیں محض تنبیہ سے باز رکھا جا سکتا ہے۔ بعض عادی مجرم ہوتے ہیں، ان کے لیے جسمانی سزا ضروری ہو جاتی ہے۔ ان قوانین کے ہم موجد نہین ہیں ہیں، بلکہ شریعت اور فقہ حنفی سے ماخوذ ہیں۔
د محاکمو د جزایي اصولنامې په اړه له بي بي سي سره د مولوي ذبیح الله مجاهد مرکه. pic.twitter.com/LsJrsDNyJ2
— Hamdullah Fitratحمدالله فطرت (@FitratHamd) January 28, 2026
اقلیتوں اور خواتین کے بارے میں خدشات
صحافی نے شیعہ کمیونٹی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا، خاص طور پر قانون کی اس دفعہ کے حوالے سے جو بدعتی عقائد رکھنے والوں کو سزا کا مستحق قرار دیتی ہے۔ اس پر ملا ذبیح اللہ مجاہد نے جواب دیا کہ افغانستان میں اہل تشیع کے ساتھ ساتھ ہندو بھی موجود ہیں اور کوئی ان کے عقائد میں مداخلت نہیں کرتا۔ قانون صرف یہ بیان کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے مسلک کا دعویٰ کرے اور پھر غلط راستہ اختیار کرے تو وہ بدعتی قرار پائے گا۔
خواتین کے حقوق کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شادی شدہ عورت بغیر شرعی جواز کے اپنے والد کے گھر چلی جائے تو یہ تعزیرات کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اس سے خاندانی نظام متاثر ہوتا ہے۔
قانون پر تنقید کی ممانعت
صحافی کے اس سوال پر کہ سپریم کورٹ اور وزارت انصاف نے قانون پر تنقید کرنے والوں کو سزا دینے کا اعلان کیا ہے، اس پر ملا ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ عوامی مجمع میں شریعت کے احکام پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ جو شخص اسلام قبول کرتا ہے، وہ اس کے دین اور اصولوں کو بھی قبول کرتا ہے۔ تنقید کے بجائے علم حاصل کیا جائے، تحقیق کی جائے۔
بین الاقوامی ردعمل
یہ نیا قانون بین الاقوامی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے، جن کا مؤقف ہے کہ یہ انسانی حقوق اور مساوات کے بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔ تاہم،طالبان ترجمان کے بیانات سے واضح ہے کہ حکومت کسی قسم کی نظرثانی یا تبدیلی پر آمادہ نہیں اور اسے شرعی تعبیر پر مکمل اصرار ہے۔
افغان ترجمان ملا ذبیح اللہ مجاہد نے اس بات کو واضح انداز میں بیان کیا کہ مذکورہ قانون مکمل طور پر شریعت اور فقہ حنفی پر مبنی ہے اور انہوں نے اپنی جانب سے کوئی نیا قانون نہیں بنایا۔ ان کے مطابق اعتراض کرنے والوں کو شریعت کے مسائل کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔
انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ہم نے اس دین کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں، تو پھر کوئی اور ہمیں ہمارا دین کیوں سکھائے؟ تاہم اگر کسی کو کوئی تشویش یا تحفظ ہے تو ہم وضاحت فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
دیکھیے: افغانستان میں برفانی تودہ گرنے سے ٹی ٹی پی کے 35 ارکان ہلاک، مزید ہلاکتوں کا خدشہ