آسٹریلیا نے افغانستان کے لیے 50 ملین ڈالر کے انسانی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے، جو خاص طور پر خواتین اور فوری بنیادی ضروریات پر مرکوز ہے۔ تاہم اس امداد کی مؤثریت طالبان حکومت کے مسلسل سخت ہوتے قوانین کے باعث سوالیہ نشان بن گئی ہے، جو خواتین کی زندگیوں پر شدید پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی یہ امداد عالمی اداروں کے ذریعے براہ راست افغان عوام، بالخصوص خواتین اور لڑکیوں، تک پہنچائی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ان کی زندگی، صحت، خوراک کی حفاظت اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر خارجہ اور وزیر برائے بین الاقوامی ترقی نے واضح کیا ہے کہ امداد کی فراہمی مکمل طور پر شفاف رہے گی اور طالبان انتظامیہ سے گزرے بغیر براہ راست ضرورت مندوں تک پہنچائی جائے گی۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ آیا مالی امداد اس وقت تک کامیاب ہو سکتی ہے جب تک کہ خواتین کو تعلیم، صحت اور روزگار تک رسائی سے محروم رکھا جائے؟ امدادی اقدامات بقا کو تو سہارا دے سکتے ہیں، لیکن حقوق اور وقار کی بحالی کے بغیر ان کا اثر محدود ہی رہے گا۔
ماہرین کے مطابق طالبان کے حالیہ قوانین خواتین کی خود مختاری، قانونی تحفظ اور سماجی شناخت کو نظامی طور پر ختم کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان قوانین کے تحت خواتین کو ثانوی و اعلیٰ تعلیم، زیادہ تر پیشوں میں ملازمت اور عوامی جگہوں پر اظہارِ رائے سے مکمل طور پر محروم کر دیا گیا ہے۔ نتیجتاً ان کے خود انحصاری کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں۔
نقل و حرکت پر پابندیاں
قوانین کی رُو سے خواتین کی بنیادی نقل و حرکت، جیسے بغیر شوہر یا مرد سرپرست کی اجازت کے والدین سے ملاقات کے لیے جانا بھی قابلِ سزا جرم قرار دے دی گئی ہے۔ یہ تمام تر پابندیاں خواتین کو زبردستی یا ناپسندیدہ رشتوں میں واپس جانے پر قید یا قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے نکاح درحقیقت ایک قسم کی قانونی قید میں تبدیل ہو گیا ہے۔
تشدد اور قانونی تحفظ
قانونی نظام شوہروں اور سرپرستوں کو سزائیں دینے کا غیر محدود اختیار فراہم کرتا ہے، جس سے نجی زندگی میں تشدد کو ریاستی تحفظ حاصل ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان قوانین میں تشدد صرف اس صورت میں قابل مواخذہ ہے جب شدید جسمانی نقصان اور واضح آثار ظاہر ہوں، جبکہ نفسیاتی، جنسی یا جبری تشدد عملاً نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
خودمختاری پر اثرات
صحت اور تعلیم کے شعبوں میں عائد پابندیاں براہ راست خواتین و لڑکیوں کی بنیادی خدمات تک رسائی کو متاثر کر رہی ہیں۔ خواتین صحت کارکنوں پر پابندی اور لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی طویل مدتی خودمختاری اور معاشرتی ترقی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہیں، جس سے خواتین کی پوری نسل مستقل امداد پر انحصار کرنے پر مجبور ہو رہی ہے۔
طالبان کی پالیسیاں خواتین کو بااختیار شہریوں کی بجائے کنٹرول اور محتاجی کی زندگی گزارنے والے افراد میں تبدیل کر رہی ہیں۔ انسانی امدادی پروگرام صرف عارضی بقا فراہم کرتے ہیں، جبکہ طالبان کے قوانین خواتین کی عزت، وقار اور بنیادی حقوق کو مستقل طور پر مجروح کر رہے ہیں۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ عالمی برادری کی خاموشی امداد کے پردے میں ان ظالمانہ قوانین کو معمول کا درجہ دلوانے کا باعث بن رہی ہے۔
طالبان اور امداد کی محدودیت
ایک جانب عالمی اداروں و قوتوں کی امداد جبکہ دوسری جانب افغان خواتین پر طالبان کی پابندیاں، خواتین اور لڑکیوں تک صحت اور غذائیت کی بنیادی خدمات پہنچانے کے عمل کو براہِ راست متاثر کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی تعلیم پر عائد کردہ پابندیاں نہ صرف معاشرے اور خاندان کو تباہ کر رہی ہیں، بلکہ خواتین کو زندگی بھر کی محتاجگی اور امداد پر انحصار کی جانب دھکیل رہی ہے۔ اس طرح خواتین کو بااختیار شہری بنانے کے بجائے، کنٹرول اور محتاجی کی زندگی گزارنے والے افراد میں تبدیل کر دیتی ہیں۔
عالمی امدادی ادارے شدید مشکلات کے باوجود لوگوں کی بنیادی بقاء کے لیے کام تو کر رہے ہیں مگر طالبان کے قوانین ان کی کاوشوں و کوششوں کو بے اثر کرتے ہوئے خواتین کی عزت اور وقار کو مجروح کر رہے ہیں۔ یہاں ایک بنیادی تضاد خود کو واضح کرتا ہے “خواتین کے لیے امداد” کا کیا مطلب ہے، جب خواتین کو قانونی نظام میں تسلیم ہی نہ کیا جائے، اور جب خود مختاری حاصل کرنے کی کوشش کرنا جرم قرار دے دیا جائے؟ جب خواتین کو تعلیم، روزگار، آزادانہ نقل و حرکت اور قانونی شناخت سے محروم کر دیا گیا ہو تو محض امدادی سامان یا رقوم کسی حقیقی تبدیلی کا باعث نہیں بن سکتے۔