تِیراہ ایک عرصے سے خوارج کے زیرِ اثر رہا ہے، جہاں دہشت گردی صرف بندوق تک محدود نہیں بلکہ منشیات، سہولت کاری اور سیاسی سرپرستی پر مبنی ایک منظم دہشت گرد معیشت بھی پروان چڑھتی رہی۔ اس نازک صورتحال میں ریاستِ پاکستان نے کسی جذباتی یا اندھی طاقت کا استعمال نہیں کیا بلکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کو اپنی بنیادی حکمتِ عملی بنایا ایک ایسا ماڈل جو دنیا بھر میں انسدادِ دہشت گردی کا مؤثر اور انسانی تقاضوں سے ہم آہنگ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
اعداد و شمار خود گواہی دیتے ہیں۔ صرف گزشتہ ایک سال میں ملک بھر میں 75 ہزار سے زائد IBOs کیے گئے، یعنی روزانہ اوسطاً دو سو سے زیادہ کارروائیاں۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں 2,597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو کسی بھی ایک کیلنڈر سال میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ کامیابی محض طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ بہتر انٹیلی جنس، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔
IBOs کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نقل مکانی نقصانات سے بچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کو اس حکمتِ عملی سے سب سے زیادہ پریشانی ہے، کیونکہ اس سے ان کا ہمدردی پر مبنی جھوٹا بیانیہ خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔
تِیراہ میں بھی یہی ماڈل اپنایا گیا۔ چونکہ خوارج زبردستی عام آبادی کے درمیان رہ رہے تھے، مقامی لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے، کواڈ کاپٹرز اور آبادی کے اندر بارودی مواد ذخیرہ کر رہے تھے، اس لیے ستمبر میں مقامی عمائدین نے فوج اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر جرگہ منعقد کیا۔ مقصد ایک ایسا حل نکالنا تھا جس سے دہشت گردی کا خاتمہ بھی ہو اور عام شہری بھی محفوظ رہیں۔
جرگے میں تین آپشن زیرِ غور آئے: خوارج سے بات چیت، IBOs میں مزید سختی، یا مقامی آبادی کی رضاکارانہ عارضی نقل مکانی۔ صوبائی حکومت اور دیگر فریقین کی موجودگی میں جرگے نے خوارج سے بات کی، مگر انہوں نے نہ عوامی مطالبہ مانا، نہ پختونولی اور قبائلی روایات کا احترام کیا۔
کئی ماہ کی مشاورت کے بعد جرگے نے فیصلہ کیا کہ سالانہ روایتی ہجرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر رضاکارانہ نقل مکانی کی جائے، جس پر حکومت نے معاوضہ بھی فراہم کیا۔ یہ فیصلہ کسی فوجی دباؤ یا زبردستی کے بغیر، باہمی رضامندی سے کیا گیا ایک حقیقت جسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود بعض سیاسی حلقوں، خصوصاً پی ٹی آئی کی جانب سے ’’فوجی آپریشن‘‘ اور ’’جبری بے دخلی‘‘ کا بیانیہ گھڑا گیا۔ حالانکہ حقائق واضح ہیں کہ نہ اضافی فوجی نفری تعینات کی گئی، نہ بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاری دکھائی دی، نہ ہی فوج کی جانب سے اسکریننگ سینٹرز یا چیک پوسٹس قائم کی گئی جو کسی بھی بڑے آپریشن کی لازمی علامت ہوتی ہیں۔ سردیوں اور برف باری کے موسم میں بڑے آپریشن کا دعویٰ بذاتِ خود غیر سنجیدہ ہے۔
یہ جھوٹا بیانیہ نہ صرف ریاست کی انسدادِ دہشت گردی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ بالواسطہ طور پر خوارج کے لیے سہولت کاری کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی عوام کے لیے مختص فنڈز کی بدانتظامی سے توجہ ہٹانے کی ایک سیاسی کوشش بھی صاف نظر آتی ہے۔
حقیقت سادہ اور واضح ہے۔
تِیراہ میں کوئی روایتی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا، بلکہ قانون کے دائرے میں، انٹیلی جنس کی بنیاد پر، عوام کے تحفظ کو مقدم رکھتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
ریاست کا فرض بھی یہی ہے اور قومی سلامتی کا تقاضا بھی ہے کہ شہریوں کو محفوظ رکھا جائے، دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے، اور جھوٹے نعروں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں۔