اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغانستان سے ہونے والے سرحد پار دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے موجودہ صورت حال کو “ناقابلِ برداشت” قرار دیا ہے۔ پاکستانی مندوب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہوں کی جانب سے مسلسل پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں، جن کے نتیجے میں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔
پاکستان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقوں میں حالیہ ہفتوں میں حملوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس موقع پر پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ تمام تر تحمل اور صبر کے باوجود جانی نقصان اور اشتعال انگیزی کی یہ لہر اب مزید برداشت کے قابل نہیں رہی۔
اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کی نمائندہ تنظیموں نے بھی پاکستان کی سرحدی سلامتی سے متعلق خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف عملی اقدامات کو یقینی بنانے اور خطے میں مستحکم امن کے لیے کابل حکام پر مثبت دباؤ بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
پاکستان نے اپنے موقف میں یہ بات بھی دہرائی کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس بیان کے ساتھ ہی، بین الاقوامی ادارے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور بات چیت کے ذریعے سلامتی کے مسائل کو حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔