انہوں نے معرکے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا: “ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔” وزیراعظم نے واضح کیا کہ بھارت ایک سال گزرنے کے باوجود اپنے الزامات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا اور مہم جوئی کے آغاز کے بعد خود ہی جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔

May 10, 2026

ایران نے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی پائیدار حل کے لیے جنگ بندی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایران نے خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سلامتی اور تحفظ کو بھی اپنے جواب کا کلیدی حصہ بنایا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔

May 10, 2026

مقامی افراد نے بھی پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ قبائلی عمائدین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں ضروری وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے علاقوں کے دفاع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھرپور معاونت کر سکیں۔

May 10, 2026

آئیے آج اپنے رویوں کی اصلاح کا عہد کریں اور یہ تسلیم کریں کہ ہماری پوری زندگی ماں کے ایک آنسو کا بدل بھی نہیں ہو سکتی۔ یہ عہد کریں کہ اپنی ماؤں کے حقوق کی ادائیگی میں کسی کوتاہی سے کام نہیں لیں گے اور انہیں وہ مقامِ بلند دیں گے جس کا حکم ہمیں ہمارے دین اور اقدار نے دیا ہے۔

May 10, 2026

ان تقریبات میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بشمول اساتذہ، طلبہ، تاجروں، وکلا، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے سبز ہلالی پرچم اور پاک فوج کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے، جبکہ فضا ’پاکستان زندہ باد‘ اور ’افواجِ پاکستان پائندہ باد‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔

May 10, 2026

صرف سال 2025 کے ابتدائی مہینوں میں اب تک 34 سے زائد صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان دورِ حکومت میں جبر و استبداد کی لہر میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اگست 2021 سے اب تک سینکڑوں میڈیا ورکرز کو “پروپیگنڈا”، “غیر ملکی روابط” اور “اخلاقی کرپشن” جیسے مبہم الزامات کے تحت قید کیا جا چکا ہے

May 10, 2026

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، سرحد پار حملے اب ناقابلِ برداشت ہوں گے

پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں افغانستان سے سرحد پار دہشت گرد حملوں، بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ واقعات پر شدید احتجاج کرتے ہوئے صورتحال کو ناقابلِ برداشت قرار دے دیا ہے
پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں افغانستان سے سرحد پار دہشت گرد حملوں، بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں حالیہ واقعات پر شدید احتجاج کرتے ہوئے صورتحال کو ناقابلِ برداشت قرار دے دیا ہے

اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے افغانستان سے سرحد پار حملوں اور بلوچستان و خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشت گرد واقعات پر سخت احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا

February 3, 2026

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے افغانستان سے ہونے والے سرحد پار دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے موجودہ صورت حال کو “ناقابلِ برداشت” قرار دیا ہے۔ پاکستانی مندوب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہوں کی جانب سے مسلسل پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں، جن کے نتیجے میں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

پاکستان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ یہ حملے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقوں میں حالیہ ہفتوں میں حملوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ تمام تر تحمل اور صبر کے باوجود جانی نقصان اور اشتعال انگیزی کی یہ لہر اب مزید برداشت کے قابل نہیں رہی۔

اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کی نمائندہ تنظیموں نے بھی پاکستان کی سرحدی سلامتی سے متعلق خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف عملی اقدامات کو یقینی بنانے اور خطے میں مستحکم امن کے لیے کابل حکام پر مثبت دباؤ بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

پاکستان نے اپنے موقف میں یہ بات بھی دہرائی کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس بیان کے ساتھ ہی، بین الاقوامی ادارے دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور بات چیت کے ذریعے سلامتی کے مسائل کو حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

دیکھیے: وادی تیراہ میں آپریشن پر منظور پشتین کے الزامات؛ سکیورٹی ماہرین نے اپنا مؤقف جاری کر دیا

متعلقہ مضامین

انہوں نے معرکے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا: “ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔” وزیراعظم نے واضح کیا کہ بھارت ایک سال گزرنے کے باوجود اپنے الزامات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا اور مہم جوئی کے آغاز کے بعد خود ہی جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔

May 10, 2026

ایران نے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی پائیدار حل کے لیے جنگ بندی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایران نے خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سلامتی اور تحفظ کو بھی اپنے جواب کا کلیدی حصہ بنایا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔

May 10, 2026

مقامی افراد نے بھی پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ قبائلی عمائدین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں ضروری وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے علاقوں کے دفاع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھرپور معاونت کر سکیں۔

May 10, 2026

آئیے آج اپنے رویوں کی اصلاح کا عہد کریں اور یہ تسلیم کریں کہ ہماری پوری زندگی ماں کے ایک آنسو کا بدل بھی نہیں ہو سکتی۔ یہ عہد کریں کہ اپنی ماؤں کے حقوق کی ادائیگی میں کسی کوتاہی سے کام نہیں لیں گے اور انہیں وہ مقامِ بلند دیں گے جس کا حکم ہمیں ہمارے دین اور اقدار نے دیا ہے۔

May 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *