پاکستان اور روس کے مابین تیل کی ایک بڑی ڈیل کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ اطلاعات کے مطابق ماسکو نے پاکستان کو عالمی منڈی کی قیمتوں سے کم، رعایتی نرخوں پر خام تیل فراہم کرنے کی باقاعدہ پیشکش کر دی ہے، جس پر دونوں ممالک کے مابین حتمی بات چیت آخری مراحل میں ہے۔
تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک ادائیگی کے طریقہ کار، تیل کی معیاری خصوصیات کے مطابق ریفائننگ کی صلاحیت اور ترسیل کے راستوں سمیت دیگر امور پر مشاورت کر رہے ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت روس خام تیل کی بڑی مقدار عالمی مارکیٹ ریٹس سے کم قیمت پر فراہم کرے گا، جس سے پاکستان پر درآمدی بل اور زرمبادلہ کے دباؤ میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق ادائیگی کے لیے روپے یا مقامی کرنسیوں میں تجارت، یا پھر باہمی مصنوعات کی ادائیگی جیسے متبادل طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ روایتی ڈالر پر انحصار کم ہو۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے لیے معاشی فائدے کا باعث بن سکتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی تیل کی قیمتیں جیو پولیٹیکل اتار چڑھاؤ کی وجہ سے غیر مستحکم چل رہی ہیں۔ اس ڈیل سے نہ صرف پاکستان کو توانائی کا ایک نیا اور مسابقتی ذریعہ ملے گا، بلکہ روس کے ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجیک تعلقات میں بھی تاریخی اضافہ ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے میں روسی تیل کی محدود مقدار کے تجرباتی درآمد کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے تھے، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اس شراکت داری کو بڑے پیمانے پر بڑھایا جائے۔ تاہم، حتمی دستخط تک تمام تفصیلات پر مذاکرات جاری رہیں گے۔