لیبیا کے سابق رہنماء معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو زنتان میں ان کے گھر میں چار مسلح افراد نے قتل کر دیا

February 4, 2026

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔

February 4, 2026

عالمی اشاریے پاکستان کو یہ نہیں بتاتے کہ کہاں، کیسے اور کن اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ٹیپ اس خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو صوبائی، ادارہ جاتی اور حتیٰ کہ ذیلی سطح پر اصلاحات کے لیے قابلِ عمل سمت متعین کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ پالیسی اصلاحات کے لیے آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔

February 4, 2026

سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملے بھارت کی سرپرستی میں ہوئے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے

February 4, 2026

رپورٹ بھارتی قیادت کی جانب سے جنگ کے بعد متضاد بیانات، طیاروں کے نقصان سے انکار اور بعد میں غلط ثابت ہونے والے دعوؤں پر خاموش ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ خاموشی رپورٹ کی غیرجانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

February 4, 2026

لیبیا: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو گھر میں قتل کر دیا گیا

لیبیا کے سابق رہنماء معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو زنتان میں ان کے گھر میں چار مسلح افراد نے قتل کر دیا
لیبیا کے سابق رہنماء معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو زنتان میں ان کے گھر میں چار مسلح افراد نے قتل کر دیا

حملہ آور چار نقاب پوش افراد تھے جو واقعے کے بعد فرار ہوگئے

February 4, 2026

لیبیا کے سابق رہنماء کرنل معمر قذافی کے فرزند اور سیاسی جانشین سیف الاسلام قذافی کو انکی رہائش گاہ پر مسلح حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ خاندانی ذرائع اور مقامی میڈیا کے مطابق چار نقاب پوش مسلح افراد نے گھر میں داخل ہو کر 53 سالہ سیف الاسلام پر فائرنگ کی۔ حملہ آوروں نے گھیراؤ سے پہلے ہی عمارت کے تمام سکیورٹی کیمرے ناکارہ کردیے تھے، تاکہ اُن کی شناخت ظاہر نہ ہوسکے۔ اطلاعات کے مطابق سیف الاسلام نے حملے کے دوران مزاحمت کی لیکن شدید زخمی ہونے کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حملے کے دوران اُن کے بیٹے کو بھی زخم آئے ہیں۔

خیال رہے کہ سیف الاسلام قذافی ایک متنازع اور طاقتور سیاسی شخصیت تھے، جو کئی سال سے زنتان شہر میں مقیم تھے اور قومی بحالی کے دعوؤں کے ساتھ دوبارہ سیاسی منظرنامے پر ابھرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔ انہوں نے 2021 میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، لیکن انتخابات کی غیرمعینہ مدت تک کے لیے التواء نے اُن کی سیاسی واپسی کو روک دیا تھا۔

قذافی خاندان کے قریبی ذرائع نے میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ سیف الاسلام قذافی کو زنتان کے قریب قتل کردیا گیا ہے۔

رسمی توثیق اور ردعمل
سیف الاسلام کے مشیر عبداللہ عثمان اور خاندانی وکیل خالد الزیدی نے اُن کی موت کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ لیبیائی سرکاری خبررساں ایجنسی لانا اور مقامی میڈیا ادارے فواصل نے واقعے کی تفصیلات شائع کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ آور حملے کے فوراً بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

فوری تحقیقات اور مطالبات
واقعے کے بعد زنتان میں سکیورٹی اداروں نے علاقے کو سیل کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ قذافی خاندان نے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقتول کی لاش قانونی پوسٹ مارٹم کے لیے فراہم کی جائے اور واقعے کے تمام ثبوت محفوظ کرلیے جائیں۔ ہائی اسٹیٹ کونسل کے سابق سربراہ خالد المشری سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

سیاسی پس منظر
سیف الاسلام قذافی 2011 میں اپنے والد معمر قذافی کے قتل کے بعد قابض افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے اور 2017 میں ایک عام معافی کے تحت رہا ہوئے تھے۔ لیبیا، جو کئی دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام اور مسلح گروہوں کے مابین کشمکش کا شکار ہے، کے لیے یہ واقعہ ایک نئے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ قتل نہ صرف لیبیا کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے، بلکہ ملک کی پہلے سے نازک سلامتی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔

February 4, 2026

عالمی اشاریے پاکستان کو یہ نہیں بتاتے کہ کہاں، کیسے اور کن اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ آئی ٹیپ اس خلا کو پُر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو صوبائی، ادارہ جاتی اور حتیٰ کہ ذیلی سطح پر اصلاحات کے لیے قابلِ عمل سمت متعین کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ پالیسی اصلاحات کے لیے آئینہ سمجھا جانا چاہیے۔

February 4, 2026

سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملے بھارت کی سرپرستی میں ہوئے ہیں، جن کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے

February 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *