لیبیا کے سابق رہنماء کرنل معمر قذافی کے فرزند اور سیاسی جانشین سیف الاسلام قذافی کو انکی رہائش گاہ پر مسلح حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔ خاندانی ذرائع اور مقامی میڈیا کے مطابق چار نقاب پوش مسلح افراد نے گھر میں داخل ہو کر 53 سالہ سیف الاسلام پر فائرنگ کی۔ حملہ آوروں نے گھیراؤ سے پہلے ہی عمارت کے تمام سکیورٹی کیمرے ناکارہ کردیے تھے، تاکہ اُن کی شناخت ظاہر نہ ہوسکے۔ اطلاعات کے مطابق سیف الاسلام نے حملے کے دوران مزاحمت کی لیکن شدید زخمی ہونے کے باعث موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حملے کے دوران اُن کے بیٹے کو بھی زخم آئے ہیں۔
خیال رہے کہ سیف الاسلام قذافی ایک متنازع اور طاقتور سیاسی شخصیت تھے، جو کئی سال سے زنتان شہر میں مقیم تھے اور قومی بحالی کے دعوؤں کے ساتھ دوبارہ سیاسی منظرنامے پر ابھرنے کی کوششیں کر رہے تھے۔ انہوں نے 2021 میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، لیکن انتخابات کی غیرمعینہ مدت تک کے لیے التواء نے اُن کی سیاسی واپسی کو روک دیا تھا۔
مراسل #قناة_العربية فرج حمزة: قيادة اللواء 444 تنفي علاقتها بمقتل #سيف_الإسلام_القذافي.. والأجهزة الأمنية في الزنتان تؤكد عدم رصد تحركات عسكرية قرب المدينة pic.twitter.com/clwDj9L3iO
— العربية (@AlArabiya) February 3, 2026
قذافی خاندان کے قریبی ذرائع نے میڈیا کو بتاتے ہوئے کہا کہ سیف الاسلام قذافی کو زنتان کے قریب قتل کردیا گیا ہے۔
رسمی توثیق اور ردعمل
سیف الاسلام کے مشیر عبداللہ عثمان اور خاندانی وکیل خالد الزیدی نے اُن کی موت کی باقاعدہ تصدیق کی ہے۔ لیبیائی سرکاری خبررساں ایجنسی لانا اور مقامی میڈیا ادارے فواصل نے واقعے کی تفصیلات شائع کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حملہ آور حملے کے فوراً بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
فوری تحقیقات اور مطالبات
واقعے کے بعد زنتان میں سکیورٹی اداروں نے علاقے کو سیل کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ قذافی خاندان نے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقتول کی لاش قانونی پوسٹ مارٹم کے لیے فراہم کی جائے اور واقعے کے تمام ثبوت محفوظ کرلیے جائیں۔ ہائی اسٹیٹ کونسل کے سابق سربراہ خالد المشری سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے اس قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی پس منظر
سیف الاسلام قذافی 2011 میں اپنے والد معمر قذافی کے قتل کے بعد قابض افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے اور 2017 میں ایک عام معافی کے تحت رہا ہوئے تھے۔ لیبیا، جو کئی دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام اور مسلح گروہوں کے مابین کشمکش کا شکار ہے، کے لیے یہ واقعہ ایک نئے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ قتل نہ صرف لیبیا کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے، بلکہ ملک کی پہلے سے نازک سلامتی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔